کشمیر:من موہن سنگھ کے دورہ پر کرفیو کا سماں

تصدق حسین
Image caption ٹنل کو پیرپنچال کے حساس پہاڑوں کو چیر کر بنایا گیا ہے

بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ ایک ہزار تین سو کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ملک کی سب سے بڑی زیر زمین سرنگ کا افتتاح کرنے منگل کو سرینگر کا دورہ کر رہے ہیں۔

وزیرِاعظم کی آمد پر سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ سکیورٹی صورتحال کا عالم یہ ہے کہ کشمیر میں کرفیو کا سما ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منموہن سنگھ جس بارہ کلومیٹر طویل سرنگ کا افتتاح کرنے کشمیر آئے، اسے ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی نے سات سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس میں تین ہزار ہنرمند اور غیرہنرمند کاریگر اور مزدور شامل تھے۔

ٹنل کو پیرپنچال کے حساس پہاڑوں کو چیر کر بنایا گیا ہے۔ پہاڑوں سے سات لاکھ مکعب میٹر مٹی کھودی گئی اور دو لاکھ مکعب میڑ سیمنٹ اور بجری کے ذریعہ ایشیا کی یہ دوسری بڑی سرنگ تیار کی گئی۔

وزیرِاعظم کے دورے سے ایک دن قبل ہی عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں آٹھ فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

ماضی قریب میں یہ سب سے بڑا اور حیران کن حملہ تھا۔ دو مسلح عسکریت پسندوں نے فوج کی ایک کانواے کو شاہراہ پر آلیا اور اتنی شدید فائرنگ کی کہ فوج کو دفاع کا موقع تک نہ ملا۔ جائے واردات سے فرار ہوتے ہوئے بھی عسکریت پسندوں نے راستے میں ایک نیم فوجی گشتی دستے پر فائرنگ کی۔

اس حملے کو اکثر تجزیہ نگار سیکورٹی کی صورتحال میں ابتری کا نام دے رہے ہیں۔ لیکن حساس مبصرین کا ایک بڑا حلقہ سمجھتا ہے کہ کشمیر میں ظلم و زیادتیوں کا بازار گرم ہونے کی وجہ سے علاقائی قوّتیں کشمیر کو بھارت کے خلاف ایک جنگی مورچے کے طور استعمال کرسکتی ہیں۔

مصنف اور جنوب ایشیائی امور کے ماہر سّید تصدق حسین کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کشمیر میں نئی اور خطرناک مسلح تحریک کا پروجیکٹ مشترکہ طور ترتیب دے رہے ہیں۔

سید حسین کہتے ہیں کہ’ یہ جو ٹنل بنی ہے، یہ میری اور آپ کی سواری کے لیے نہیں ہے۔ چین نے بھارتی سرحد کے آخری مقام تک سڑکوں اور ریلوے کا جال بچھا رکھا ہے۔ چینی فوج موٹر سائیکلوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر بھارتی علاقے میں داخل ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر بھارت چین کے ساتھ جنگ کرنا بھی چاہے تو وہاں اس کی فوجیں پہینچیں گی کیسے؟'

Image caption وزیرِاعظم کے دورے سے ایک دن قبل ہی عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں آٹھ فوجی اہلکار مارے گئے

ان کا کہنا ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قاضی گنڈ سرنگ ہی نہیں کئی سرنگیں، پل اور سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

سید تصدق حسین کہتے ہیں کہ بھارت نے اپنے دفاع کے لیے امریکہ اور اس کےایشیائی اتحادیوں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرلیے ہیں۔

’ان تعلقات کا مقصد چین کا محاصرہ ہے۔ اور پھر چین کا پاکستان کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ ساتھ ہی کشمیری عوام فوجی زیادتیوں اور پابندیوں سے پریشان ہیں۔ یہ صورتحال کشمیر میں مسلح تشدد کو ختم نہیں ہونے دے گی۔‘

چین کا خطرہ کیسے ٹلے گا؟ اس کے جواب میں تصدق حسین کہتے ہیں کہ ’ کشمیر میں ظلم بند کرنا ہوگا، تشدد کی ضرورت کو ختم کرنا ہوگا۔ جب یہاں کشمیریوں کو لگتا ہے کہ بھارت صرف بندوق کی زبان سمجھتا ہے تو خطرناک بات ہے۔ علاقائی قوتیں اسی تاک میں ہیں کہ کشمیر میں لاوا پک جائے تو اسے چنگاری دکھائی جائے۔‘

وزیراعظم اس صورتحال کو مذاکرات کے ذریعہ بدل سکتے تھے لیکن اپنے نو سالہ دور میں وہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود کچھ نہیں کرپائے۔

اسی بارے میں