مودی نے ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟

Image caption اگر بی جے پی واقعی مسلمانوں کے لیے ایک منصفانہ روش اختیار کرتی ہے تو پھر کانگریس، لالو و ملائم اور نتیش ٹائپ کی جماعتوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگا

چند مہینے قبل نریندر مودی نے جب گجرات میں عوام سے اپنے براہ راست رابطے کی مہم سد بھاونا کا اہتمام کیا تو اس مہم کے دورران مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بھی سٹیج پر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے لایا گیا۔

ان میں اکثر نمائندے روایتی طریقے سے کبھی کوئی پگڑی تو کبھی کوئی صافہ یا شال مودی کو پیش کررہے تھے۔ لیکن جب ایک مزار کے متولی اچانک اپنی جیب سے ایک گول ٹوپی نکال کر مودی کو پہنانے کے لیے آگے بڑھے تو انہوں نے متولی کوٹوپی پہنانے سے روک دیا اور اس کی جگہ ان سے وہ سبز صافہ پہنانے کے لیے کہا جو انہوں اپنے گلے میں ڈال رکھا تھا۔ مودی نے ٹوپی نہیں پہنی۔

ٹوپی نہ پہننے کے لیے مودی پر زبردست نکتہ چینی کی گئی۔ اسے ان کی مسلم اور اسلام مخالف ذ ہنیت سے تعبیر کیا گیا۔ اگر مودی نے وہ ٹوپی پہن لی ہوتی تو وہی تصویران کی پرچھائیں بن گئی ہوتی۔

مودی نے اس روز وہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟ کیا اس کے پیچھے مسلم مخالف جذبات تھے یا پھر وہ دوسرے سیاست دانوں کی طرح کارٹون بنے نطر آنا نہیں چاہتے تھے جو سال میں دو تین بار اپنے سیکولرزم کا پرچم گاڑنے کے لیے کسی صوفی کے مزار یا آستانے پر مجاوروں اور قوالوں کے جھنڈ میں ٹوپی اور عربی کفایہ پہنے نظر آتے ہیں۔

مودی کے فیصلے کا سبب جو بھی رہا ہو لیکن یہ فیصلہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے بالکل صحیح تھا۔

گزشتہ 60 برس سے کانگریس اورخود کو سیکولر کہنے والی ذات پرست اور علاقہ پرست جماعتیں سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، جنتادل یونائٹیڈ، بہوجن سماج پارٹی وغیرہ ہندی فلموں کی طرح مسلمانوں کو ایک اسٹیریو ٹائپ کی طرح پیش کرتی رہی ہیں۔اس امیج میں ٹوپی کا بہت اہم کودار رہا ہے۔

ٹوپی بذات خود مذہب کی ایک علامت ہے لیکن یہ بھارت کے سیاسی اور سماجی پس منطر میں مسلمانوں کی پسماندگی، مین سٹریم سے علیحدگی اور ان کی غربت کا استعارہ بھی ہے۔

بھارت کی نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتیں بھارت کی 13 فی صد آبادی کے لیے یونیورسٹیز، بینکوں، میڈیکل کالجز، لڑکیوں کے تعلیمی ادارے، آئی آئی ٹیز اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کھولنے کے بجائے، وقف بورڈ، پرسنل لا، اردو زبان، اماموں کی تنحواہوں، مزاروں کی مرمت اور ماضی کے کھنڈرات میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے جیسے سوالوں میں الجھائے ہوئے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نےگزشتہ دنوں مسلمانوں کے لیے مستقبل کا ایک خاکہ تیار کرنے کا ایک اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا یہ دعوی ہے کہ وہ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار، اردوکو سرکاری زبان کا درجہ دینےاور وقف کی سیاست کے دائرے سے باہر نکل کر ملک کی ترقی میں13 کروڑمسلمانوں کی شراکت کو یقینی بنائے گی۔

آر ایس ایس جیسی فرسودہ اور مذہبی تنظیم سے اس کی وابستگی اور گجرات سمیت اس کے اقتدار والی ریاستوں میں اس کے طرز حکومت کے پیش نظر بی جے پی کے دعوے کے بارے میں شک وشبہات کا پیدہ ہونا لازمی ہے۔

مسلمانوں کے لیے مستقبل کا ایک خاکہ تیار کرنے کے بارے میں سوچنا اپنی امیج کے سبب بی جے پی کی مجبوری ہی صحیح لیکن یہ ایک مثبت قدم ہے۔ اور اگر بی جے پی واقعی مسلمانوں کے لیے ایک منصفانہ روش اختیار کرتی ہے تو پھر کانگریس، لالو و ملائم اور نتیش ٹائپ کی جماعتوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گا۔ کیونکہ ان جماعتوں نے مسلمانوں کو غربت، ناخواندگی، پسماندگی عدم تحفط کا احسا س اور مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ہے۔

اسی بارے میں