اتراکھنڈ سیلاب: ہزاروں افراد امداد کے منتظر

Image caption فوجی دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں جنگی پیمانے پر جٹے ہوئے ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں آنے والے سیلاب میں امدادی کام ابھی جاری ہے کیونکہ ابھی بھی ہزاروں افراد دورافتادہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان سیلابوں میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی کی نمائندہ نے ریاستی دارالحکومت دہرہ دون سے بتایا ہے کہ اس قبل از وقت اچانک مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی میں مرنے والوں کے علاوہ لاپتہ افراد کی تعداد چار ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

سنیچر کو صبح میں موسم کی خرابی کے سبب امدادی کاموں میں رکاوٹ آئی تھی لیکن اس کے بعد امدادی کاموں میں مصروف فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے مزید 1400 ہندو زائرین کو بدری ناتھ سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ابھی بھی ہزاروں افراد مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نمائندے ونیت کھرے کا کہنا ہے کہ علاقے کے بہت سے گاؤں دنیا سے کٹ چکے ہیں اور وہاں حالات کافی ناگفتہ بہ ہیں۔

گاؤں میں غذائی اور دیگر ضروری اشیا کی کافی کمی ہے۔ ضلع رودر پریاگ کےقریب 600 گاؤں اس قلت کی زد میں ہیں۔

نقل و حمل کی سہولت کی عدم موجودگی میں ان تک ضروری سامان پہنچانا مشکل مرحلہ ہے۔

گزشتہ روز جمعہ کو بھارتی فوج کے سربراہ نے علاقے کا دورہ کیا تھا اور فوج کے جوانوں کی ہمت ا‌فزائی کے ساتھ انھوں نے کہا تھا کہ ہرسل میں اب پانچ سو سے کم زائرین بچے ہوئے ہیں جبکہ بدری ناتھ میں قریب تین ہزار افراد ابھی بھی وہاں سے نکالے جانے کے منتظر ہیں۔

Image caption ایک ہزار سے زیادہ جگہوں پر سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں یا بہہ گئی ہیں

اس سے قبل بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے قومی المیہ سے تعبیر کیا تھا جبکہ ریاست کے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے اسے ہمالیائی سونامی کا نام دیا تھا۔

بھارت ناگہانی آفات سے نمٹنے کے محکمے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر نے کہا تھا کہ اچانک آ جانے والے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں ہزار کے پار پہنچ سکتی ہیں۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ اب چونکہ بدری ناتھ میں کم لوگ بچ گئے ہیں اس لیے اب امدادی سرگرمیوں کا محور رودرپریاگ، چمولی اور اترکاشی کے اضلاع ہیں۔

دریں اثنا ندیوں میں پانی کی سطح میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے موسمیات کے شعبے نے بتایا ہے کہ یہ اضافہ گلیشیئر کے پگھلنے کے سبب ہے۔

یاد رہے کہ یہ سیلاب جون کی 16 تاریخ کو آیا تھا۔ ریاست کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ آثارقدیمہ کے محکمے کو اس سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اسی بارے میں