کشمیر: بھارتی فوج نے دو لڑکوں کو گولی مار دی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج نے دو نوجوان لڑکوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ سترہ سالہ طالب علم عرفان وگے اور ستائیس سالہ ارشاد گنائی کی فوج کے ہاتھوں ہلاکتوں پر کشمیر میں احتجاج کیا گیا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ فوج نے رات کے تقریباً بارہ بجے کسی اشتعال کے بغیر اُس وقت فائرنگ کی جب عرفان اور ارشاد کسی کام کے لیے گھر سے باہر آرہے تھے۔

شمالی کشمیر کے علاقے بانڈی پورہ ضلع میں اتوار کی صبح سینکڑوں مرد، خواتین اور بچوں نے شاہراہ پر مظاہرے کیے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔

اس واقعے سے متعلق بات کرتے ہوئے بانڈی پورہ کے ضلع کمشنر محمد یوسف نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ارشاد اور عرفان عام شہری ہیں اور وہ فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ ہم نے فوج کی راشٹریہ رائلفز کی تیرہویں بٹالین کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔‘

ضلع میں جاری احتجاجی لہر کو ملحقہ علاقوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے بانڈی پورہ اور ملحقہ علاقوں میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ کی گئي ہیں۔ تاہم اکثر بستیوں میں لوگ ہندمخالف نعرے بازی کررہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کشمیر میں سینکڑوں فوجی تنصیبات بستیوں کے بالکل ساتھ ساتھ ہیں اور اکثر دیہات کا راستہ فوجی کیمپوں سے ہوکر گزرتا ہے۔

اس سال فروری میں دلّی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی پر لٹکائے گئے افضل گورو کے آبائی گاوں دوآب گاہ کا راستہ بھی فوجی کیمپ کے بیچوں بیچ گزرتا ہے جس کا گیٹ شام کو بند کیا جاتا ہے۔

فوج کو کشمیر میں لامحدود قانونی اختیارات بھی حاصل ہیں۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا کے تحت فوج محض شک کی بنا پر کسی بھی گھر کو بم سے اُڑا سکتی ہے یا کسی کو گولی مار کر ہلاک کرسکتی ہے۔

اس قانون کے خاتمہ کے لیے یہاں کی ہند نواز جماعتوں نے پچھلے کئی سال سے سیاسی مطالبات کی مہم چلائی لیکن بھارت کی وزارت دفاع نے صاف انکار کردیا۔

ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں میں ملوث فوجی اہلکاروں کا کشمیر کی حکومت قانونی مواخذہ بھی نہیں کرسکتی۔

بیس سال قبل شمالی کشمیر کے ہی کونان پوش پورہ کی درجنوں خواتین کےساتھ جنسی زیادتی اور ان کے اہل خانہ کے جسمانی تشدد میں ملوث فوجی اہلکاروں کو آج تک سزا نہیں ملی ہے۔

کشمیر کے دورے پر آئے بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید نے سرینگر میں اعتراف کیا ’اجتماعی طور خواتین کی جنسی زیادتی کے واقعہ پر میں شرمسار ہوں، یقین نہیں آتا کہ میرے ملک میں ایسا ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں