کشمیر میں ایک اور جھڑپ، تین ہلاکتیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبے تارال میں مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف فوج اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران شدید جھڑپ جاری ہے۔

پیر کی صبح ہوئے اس جھڑپ میں آخری اطلاعات ملنے تک دو عسکریت پسند اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپ ایک ایسے وقت ہوئی جب وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

حالات اتوار کی صبح اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ قصبہ میں فوج کی فائرنگ سے دو طالب علم ہلاک ہوگئے۔

اس طرح وادی کے شمال و جنوب میں کشیدگی اور غم و غصہ کی لہر پھیل گئی ہے۔ کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر اور دیہات میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی قصبہ تارال کے میڈورا گاؤں میں مسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی فوج اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ یا ایس او جی نے مشترکہ آپریشن شروع کیا تو ایک مکان میں چھپے عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں دو عسکریت پسند اعجاز اور شاہ نواز مارے گئے جبکہ ایس او جی کا ایک اہلکار بھی مارا گیا ہے۔

دریں اثنا طالب علموں کی ہلاکت کے خلاف پیر کو بانڈی پورہ میں مقامی تعلیمی اداروں کے طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا۔

مشتعل نوجوانوں نے ایک سرکاری عمارت کو بھی نذرآتش کیا۔اس واقعہ کے خلاف غم و غصہ کی لہر بتدریج پھیل رہی ہے۔

فوج اور مقامی انتظامیہ نے ان ہلاکتوں کی الگ الگ سطح پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ چوبیس سالہ شورش کے دوران ایسے درجنوں واقعات ہوئے ہیں اور دونوں سطحوں پر تحقیقات کا اعلان کیا جاتا رہا لیکن ابھی تک کسی بھی واقعہ کی نہ تو تحقیقات مکمل ہوئی نہ ہی کسی کو سزا دی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اس سال مسلح تشدد کی سطح بڑھ گئی ہے۔ پچیس جون کو بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی کشمیر آمد سےکچھ دیر پہلے سرینگر کے نواح میں عسکریت پسندوں نے فوج کی قافلے پر حملہ کیا تھا اور آٹھ فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد فرار ہوگئے تھے۔

ایک اعلی پولیس افسر نے بتایا کہ’ اس بار ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔‘

پولیس ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چھہ ماہ کے دوران بتیس فورسز اہلکار اور اٹھارہ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ مذکور پولیس افسر نے کہا کہ’اب عسکریت پسند زیادہ سوچتے ہیں، اور حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔‘

تاہم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک غیرمسلح تحریک کے دوران لوگوں پر ظلم کیا گیا اور نہ صرف نہتے نوجوانوں کے سینوں پر گولیاں ماری گئیں بلکہ جو بچ گئے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور جیلوں میں قید کیا گیا۔

بھارتی صحافی گوتم نولکھا کہتے ہیں کہ’نوجوان اب انتقامی جذبات سے لیس ہیں۔ یہ ایک نئی عسکریت پسندی ہے جو خود حکومت کی پیدا کردہ ہے۔'‘

اسی بارے میں