اتراکھنڈ سیلاب: لاپتہ افراد کی تلاش

Image caption ایک لاکھ سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا ہے لیکن بہت سے لا پتہ ہیں

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے متاثرہ علاقوں میں تین ہزار کے قریب گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

امدادای آپریشن میں شریک حکام کا کہنا ہے کہ انہیں 3,078 گم شدہ افراد کے لیے ایک ہزار ایف آئی آر موصول ہوئی ہیں۔

بھارتی ریاست اترا کھنڈ میں ہندوں کے قدیم مندر اور زیارت گاہیں جن کی زیارت کے لوگ ملک کے کونے کونے سے جاتے ہیں۔

ریاست میں گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے تشکیل دیےگئے سیل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دہرادون میں قائم امدادی کیمپ سے تقریباً تین ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان کا کہنا تھا’ ہم گمشدہ افراد سے متعلق ضلعی سطح کے پولیس سٹیشنز اور ان ریاستوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار جمع کرتے رہیں گے جہاں سے زائرین آئے تھے۔ اس بارے میں حتمی تعداد کا پتہ کچھ روز بعد ہی چل سکے گا‘۔

انہوں نے کہا ’گم شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے اور یہ اعداد و شمار بدل بھی سکتے ہیں‘۔

اترا کھنڈ کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا کا کہنا کہ سیلاب میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک جبکہ تین ہزار لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں سیلاب کی وجہ سے گمشدہ افراد کے سینکڑوں عزیز اور رشتہ دار اب بھی ان کی تلاش میں پریشان ہیں۔

بہت سے افراد اپنے پیاروں کی تصاویر لیے انہیں تلاش کرنے میں حکام کو مدد کے لیے درخواست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار وینت کھرے کا کہنا ہے کہ اگرچہ اتراکھنڈ میں امدادی آپریشن ختم کرنے کا آغاز ہو چکا ہے تاہم وہاں گم شدہ افراد کو تلاش کرنے کا کام اب بھی جاری ہے۔

اندو سندھوانی نے روتی ہوئی آنکھوں سے بتایا کہ ’مہربانی کر کے میرے بھائی کی تلاش میں میری مدد کریں، میرا بھائی میرے لیے سب کچھ ہے‘۔

کیدر ناتھ کا پل ٹوٹنے کے بعد اندو سندھوانی کا اپنے بھائی کے ساتھ آخری رابطہ 16 جون کو ہوا تھا جس کے بعد ان کے بھائی کا فون خاموش ہو گیا۔

سولہ جون کے بعد سے اندو سندھوانی اپنے بھائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کوششیں کر رہی ہیں تاہم انھیں کامیابی نہیں ملی۔

اسی طرح سے انتالیس سالہ نیلش رشی کیش میں گزشتہ دو ہفتوں سے اپنے والدین کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انھوں حکام کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ میں سیلاب کے نیتجے میں 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم مرنے والے افراد کی اصل تعداد شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔

اسی بارے میں