بھارت: بزرگوں کی پسند ریٹائرمنٹ ہوم کیوں؟

Image caption بنگلور کے نواحی علاقے میں 30 ایکڑ پر پھیلے 200 کوٹیجوں پر مبنی یہ ریٹائرمنٹ گاؤں ہے

بھارت میں معمر اور بزرگ افراد اپنے بچوں کے ساتھ جانے کے بجائے ’ریٹائرمنٹ ہوم‘ جانا پسند کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی شالو یادو کا کہنا ہے کہ جنوبی ہندوستان میں ان رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ایس شیکھر کو ان کے بچوں نے اپنے ساتھ بیرون ملک رہنے کی دعوت دی تو انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیونکہ ان کا اپنا علیحدہ ہی منصوبہ تھا۔

اپنے بچوں کے ساتھ جانے کے بجائے انھوں نے جنوبی بھارت کے اہم شہر بنگلور کے نواحی علاقے میں 30 ایکڑ پر پھیلے 200 کوٹیجوں پر مبنی ’ریٹائرمنٹ ویلج‘ جانا پسند کیا۔

ریٹائرمنٹ ویلج میں رہنے والوں میں ریٹائرڈ اساتذہ، انجینيئرز، ڈاکٹرز اور کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی اپنے حساب سے جینا چاہتا ہوں۔ میں اور میری اہلیہ پرھنے لکھنے، قدرتی مناظر اور اپنے مزاج سے ہم آہنگ لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تو ان کی خواہش پر ہماری زندگی گزرتی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘

اپنے اس عمدہ ریٹائرمنٹ گھر میں مصنوعی جھیلوں اور پہاڑوں کے درمیان وہ سکائپ پر اپنے بچوں سے رابطے میں بھی رہتے ہیں۔

گلاسگو میں ڈائیرکٹر کے عہدے پر فائز ان کے بیٹے کشور شیکھر نے کہا ’جب میرے والدین نے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں ایک قسم کے جرم احساس ہوا لیکن اب ہم انہیں آزاد اور خوش دیکھ کر مطمئین ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں اور میرا بھائي ہم دونوں کبھی ان سے ان کی یہ خوشی نہیں لینا چاہیں گے۔‘

عام طور پر برصغیر کے ممالک میں لوگ اپنی زندگی کی شام اپنے بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور بچے ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

سماجیات کی ماہر پیٹریشیا اوبرائے کا کہنا ہے کہ ’مغرب کے برخلاف جہاں لوگ اپنے بچوں پر انحصار سے گھبراتے ہیں، بھارت میں گھر کے بزرگ اپنے بچوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔‘

کشور شیکھر اور ان کی اہلیہ ان معمر لوگوں کی روز افزوں جماعت کا حصہ ہیں جو بھارت کے روایتی خاندانی نظام سے الگ ہوکر اپنے بچوں سے دور رہنے کے خواہش مند ہیں۔

اسی وجہ سے شہر کے مضافاتی علاقوں میں اس طرح کے ریٹائرمنٹ ہوم کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

کشور شیکھر جس ریٹائرمنٹ گاؤں میں رہتے ہیں اس میں ایمرجنسی طبی سہولیات، ویل چيئر، ہلتھ کلب، نہ پھسلن والے فرش اور بوڑھوں کی آسانی والے باتھ روم کی سہولیات کے ساتھ مشترکہ کھانے پینے کا انتظام بھی ہے۔

ریٹائرمنٹ ہوم بنانے والی تعمیراتی کمپنی سینیئر کیئر کے سربراہ اے سریدھرن کا کہنا ہے کہ ’آج ہندوستان میں دس کروڑ بوڑھے آباد ہیں۔ اگر آپ ان میں سے پانچ فی صد متوسط درجے کے بوڑھوں کو ہی لے لیں تو ان کی تعداد 50 لاکھ ہوتی ہے جو کہ ایک بڑی تعداد ہے لیکن ان کے لیے اولڈ ایج ہوم بمشکل دستیاب ہیں۔ اس لیے اس شعبے میں ایک بڑا بازار تعمیراتی کمپنیوں کا منتظر ہے۔‘

اسی بارے میں