فرضی تصادم، آخر کانگریس خاموش کیوں رہی؟

Image caption عشرت جہاں کو گجرات پولیس نے فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا تھا

گزشتہ کئی دنوں سے بھارت کے ہر ٹیلی ویژن چینل اور اخبار میں سکیورٹی کے ماہرین، سابق جاسوس، انٹیلی جنس کے سبکدوش سربراہ اور ہر آڑے ترچھے تجزیہ کار یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ نو برس پہلےگجرات پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی ممبئی کی طالبہ عشرت جہاں دہشت گرد تھی۔

دراصل یہ سوال تو کسی نے پو چھا ہی نہیں تھاکہ وہ دہشت گرد تھی یا نہیں۔ عدالت نے سی بی آئی کو صرف یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس پہلو کی تحقیق کرے کہ پولیس نے عشرت کو واقعی انکاؤنٹر میں مارا یا پھر اسے تحویل میں لے کر قتل کیا گیا۔

سی بی آئی اور اس سے پہلے مجسٹریٹ اور گجرات پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم اس واقعے کو پولیس کے ہاتھوں دن دہاڑے قتل قرار دے چکی ہے۔

پولیس نے اس انکاؤنٹر میں جن تین دیگر افراد کو مارا اس میں سے ایک انٹیلی جنس بیورو کا مخبـر بتایا جاتا ہے۔

سی بی آئی اب یہ تفیش کر رہی ہے کہ پولیس نے جن دو افراد کو پاکستانی دہشت گرد بتا کر ہلاک کیا، کہیں وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے باشندے تو نہیں تھے۔ تفتیشی بیورو یہ بھی دیکھے گا کہ اس قتل کے پیچھے مقصد کیا تھا۔

بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سی بی آئی جیسے ایک بااثر مرکزی ادارے نے ماورائے آئین قتل کے کسی معاملے میں ریاستی پولیس کے ساتھ ساتھ ملک کے پریمیئر مرکزی سراغ رساں ادارے انٹیلی جنس بیورو کے اعلیٰ افسروں کے غیر قانونی پہلو کو اتنی تفصیل کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔

عشرت جہاں کے معاملے میں انٹیلی جنس بیورو کے ایک خصوصی ڈائریکٹر کے علاوہ کئی دیگر افسروں سے عشرت اور باقی تینوں کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کے شک میں پو چھ گچھ ہو رہی ہے۔

اس سے پہلے گجرات کے ہی صادق جمال فرضی انکاؤنٹر میں بھی انٹیلی جنس بیورو کے کئی اعلیٰ افسر تفتیش کے شکنجے میں ہیں۔ گجرات پولیس کے تو بڑے بڑے افسر ان معاملوں میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نریندر مودی کے وزیر داخلہ امیت شاہ بھی کئی مہینے جیل میں گزار چکے ہیں اور اس وقت ضمانت پر رہا ہیں۔

مودی مخالف تجزیہ کار اور کارکن گجرات کے ہر انکاؤنٹر کا لہو مودی کی آستین میں تلاش کرنے میں لگے ہو ئے ہیں۔

لیکن دوسری جانب مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والے انٹیلی جنس بیوروکے افسروں کا نام ایک کے بعد ایک کئی فرضی مقابلوں میں آنے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔

کانگریس کی حکومت نے پہلے تو سی بی آئی پر یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ نہ کرے۔ لیکن جب سی بی آئی تفتیش پر ڈٹی رہی تو حکومت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا کہ سی بی آئی انٹیلی جنس بیورو کے افسروں سے پوچھ گچھ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور اسے کسی پوچھ گچھ سے پہلے حکومت سے منظوری لینی ہوگی۔

جب تک انکاؤنٹر کے اس تشویشناک معاملے میں سارے تیر مودی کی طرف چلتے رہے تب تک کانگریس اور اس کی حکومت دہلی میں بیٹھی تماشہ دیکھتی رہی۔ لیکن جیسے ہی یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان تصادموں میں مبینہ طور پر صرف مرکزی ایجنسی کا ہاتھ ہی نہیں ہے بلکہ ان کے دفاع اور حمایت میں کانگریس کی حکومت نے عدالتوں میں بیان حلفی بھی داخل کیے ہیں تو حکومت کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوگیا۔

عشرت جہاں کا معاملہ نو برس پرانا ہے۔انٹیلیجنس بیورو اور وزارت داخلہ اس انکاؤنٹر کی حقیقت سے اگر آشنا نہیں تھے تو اسے پیشہ وارانہ نقطہء نظر سے ان کی نااہلی میں شمارکیا جانا چاہیے اور اگر معلوم تھا اور خاموش رہے تو اسے کیا کہا جائے۔

فرضی انکاؤنٹرز کا معاملہ بھارت میں سکیورٹی کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ماضی کے سالوں میں شمال مشرقی ریاستوں، اتر پردیش، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، کشمیر، دہلی اور کئی دوسری ریاستوں میں کئی ہزار انکاؤنٹرز ایسے ہوئے ہیں جو پراسرار حالات میں ہوئے اور جو واضح طور پر شک کے دائرے میں ہیں۔ ابھی حال میں سپریم کورٹ نے منی پور میں ایک ہزار سے زیادہ تصادموں کی ازسر نو تفتیش کا حکم دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب اتنے حساس معاملے میں مرکزی حکومت کے ایک اہم ادارے انٹیلی جنس بیورو کے بعض اہلکار قانون کے دوسری جانب کھڑے نظر آتے ہیں۔اوردوسری جانب مرکزی تفتیشی بیورو قانون کی بالادستی کے نفاذ کی اپنی آئینی ذمے داری نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ کانگریس اور بی جے پی اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کریں ۔

اسی بارے میں