اتراکھنڈ: چار ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

اترا کھنڈ کے دارالحکومت دہرہ دون سے بی بی سی ہندی کی نامہ نگار شالنی جوشی کا کہنا ہے سیلاب سے آنے والی شدید تباہی کے پیش نظر مسلسل اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس میں کئی ہزار افراد کی موت ہوئی ہوگی لیکن جب حکومت نے پیر کو تسلیم کیا کہ 4,045 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں تو اس بات کی تقریباً تصدیق ہو گئی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 4,000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ریاست اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے دہرہ دون میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاستی حکومت نے لاپتہ افراد کی حتمی فہرست تیار کر لی ہے۔

حکام کے مطابق 15 جولائی کے بعد لاپتہ افراد کو مردہ تصور کرکے ان کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کے عمل کو شروع کر دیا جائے گا۔

وجے بہوگنا کے مطابق دوسرے صوبوں سے لاپتہ افراد کی جو فہرست آئی ان کو سامنے رکھ کر گم شدہ افراد کی یہ فہرست بنائی گئي ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میں تباہی سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ جلد ہی لگا لیا جائے گا اور اس کی بنیاد پر بھارتی حکومت کو رپورٹ بھیجی جائے گی۔

Image caption اترا کھنڈ میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اہم زیارت گاہیں ہیں

وزیر اعلی وجے بہوگنا کے مطابق فضائیہ کے طیارے نے کیدار ناتھ میں کام کرنے والے گروپ کے لیے رسد پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں موسم خراب ہونے کی وجہ سے ویزیبلیٹی بہت کم ہے۔

ان کے مطابق فوج سے پیدل راستہ تیار کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

بی بی سی ہندی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی بھی سیلاب میں ہلاک ہونے والے، لاپتہ اور نامعلوم لاشوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار فراہم کیے جا رہے ہیں اور شاید ان کی حقیقی تعداد ایک راز ہی بن کر رہ جائے۔

حکومت کے آفات سے نمٹنے والے محکمے نے 580 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی اور بقول پولیس 150 نامعلوم لاشوں کو اجتماعی طور پر نذر آتش کیا جا چکا ہے۔

لاپتہ بتائے جا رہے 4,045 افراد میں سے اتراکھنڈ کے 795 افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ردرپرياگ کے ہیں جہاں 600 سے زیادہ لوگوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ان میں 57 ریاستی حکومت کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گگوتري، يمنوتري اور بدری ناتھ کے لیے سفری سہولیات ستمبر کے آخر میں بحال کر دی جائیں گی۔

اسی بارے میں