اب بھارت میں ’تار آیا تار آیا‘ کی صدائیں نہیں آئیں گي

Image caption ٹیلی گرام سے نہ جانے بر صغیر میں کتنے لوگوں کی یادیں جڑی ہیں

بھارت میں چودہ جولائی 2013 سے 162 سال سے ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے والی ٹیليگرام یعنی تار کی سہولیات کو ختم کیا جا رہا ہے۔

بھارت ٹیلی مواصلات کارپوریشن یعنی بی ایس این ایل نے بارہ جون کو یہ فیصلہ کیا کہ چودہ جولائی کی رات 10 بجے کے بعد تار سروس بند کر دی جائے گی۔

اس اعلان کے ساتھ ہی تار محکمۂ میں کام کرنے والے ملازمین کو تین تجاویز دی گئی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ 29 جون تک دوسرے محکموں میں اپنا تبادلہ کرا لیں۔

دارالحکومت دہلی میں ایسٹرن کورٹ وہ تاریخی عمارت ہے، جہاں بھارت ٹیلی مواصلات کارپوریشن لمیٹڈ کے تار محکمہ کا ہیڈ کوارٹر رہا ہے۔ مگر اب یہاں سے تار نہیں کیے جا سکیں گے۔

بی بی سی کے اجے شرما کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے لیے خوف اور خوشی کے ملے جلے تاثر کے ساتھ موجود تھا۔ دراصل ٹیلی گرام فوری اور ’ارجنسي‘ کو ظاہر کرنے والا وہ نفسیاتی طریقہ تھا، جس کی جگہ آج تک کوئی اور ذریعہ ای میل یا ایس ایم ایس بھی نہیں لے پایا۔

Image caption شمیم اختر کا کہنا ہے کہ ایک زمانے میں ملک گیر پیمانے پر روزانہ چھ کروڑ تار ارسال کیے جاتے تھے

بی ایس این ایل کے سینیئر جنرل مینیجر (جی ایم) شمیم اختر نے بی بی سی سے اس کے بند کیے جانے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’ٹیلی گرام سروس بند کرنے کی متعدد وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ٹیلی گرام سے بہتر خدمات موجود ہیں جو زیادہ تیز رفتار، كفایتی اور قابل اعتماد ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اس وقت بی ایس این ایل کو ٹیلی گرام کی وجہ سے مالی خسارے کا سامنا ہے۔ سنہ 2006 سے اب تک محکمے کو تقریبا پندرہ سو کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے اس میں سے صرف گزشتہ سال 135 کروڑ کا نقصان ہوا۔ اس لیے ٹیلی گرام بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

شمیم اختر کے مطابق پہلے بہت سے لوگ ٹیلی گرام کرتے تھے۔ 1985 میں روزانہ چھ کروڑ ٹیلی گرام بھیجے جاتے تھے، جو کم ہوتے ہوتے 2008 میں 22 ہزار روزانہ اور 2013 تک تقریبا 5000 ٹیلی گرام روزانہ تک آ گئے۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ سرکاری محکموں جیسے فوج میں آج بھی تار کی اہمیت برقرار ہے۔

بی بی سی نے تار محکمہ میں 1975 سے کام کر رہے ایک اہلکار آر کے گوئل سے بات کی، جن کے ریٹائرمنٹ میں اب صرف ڈیڑھ سال کا وقت بچا ہے۔

گوئل کے مطابق اب بھی 400 سے 500 تار روز بھیجے جاتے ہیں اور پہلے اس شعبہ میں تقریباً ڈھائی تین ہزار ملازم تھے۔ اب صرف 20-25 ہی بچے ہیں۔

تار کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’عدالتی معاملے میں تار ثبوت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ملٹری والوں کو چھٹی چاہیے تو اس کے لیے بھی یہی نظام تھا۔ یہ بند ہو جائے گا تو ان کو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ ایس ایم ایس وہاں کام نہیں کرتا ، کسی کے پاس موبائل ہے تو کسی کے پاس نہیں ہے۔‘

Image caption اس نوٹس کے ذریعے 162 سال پرانی سروس کے خاتمے پر مہر لگ گئی

بہرحال شمیم اختر کہتے ہیں کہ اس کے باوجود لوگوں کو تار کی کمی نہیں محسوس ہوگی کیونکہ اس کی جگہ اس سے زیادہ طاقتور مواصلات کے ذرائع موجود ہیں۔

عدالتوں میں تار کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے پر شمیم اختر نے کہا: ’ہو سکتا ہے کہ کورٹ نئی چیزوں کو بھی ثبوت کے طور پر اہمیت دے جیسے میسجز کو شاید منظوری مل جائے۔ ابھی تک تو یہ آن پیپر پروف ہوتا ہے۔ جیسے کسی کی طبیعت خراب ہے وغیرہ۔‘

اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے شمیم اختر بتاتے ہیں، ’جب ٹیلی گرام کسی جگہ پہنچتا تھا، تو دو طرح کے خدشے ظاہر کیے جاتے تھے۔ یا تو وہ خوشی کا پیغام ہوگا یا پھر غم کی خبر ہو گی۔ اسی لیے لوگوں کا اس سے جذباتی لگاؤ تھا۔‘

شمیم اختر کا کہنا تھا: ’ہمارے وقت میں امتحانات کی معلومات دینے کے لیے بھی تار بھیجے جاتے تھے۔ خوشی کا پیغام، کسی کی شادی کی مبارک باد جیسی اطلاعات دینے کے لیے بھی اسے بھیجتے تھے۔‘

تار کے لیے مختصر ترین جملوں کا استعمال کیا جاتا تھا اور عام طور پر انتہائی ضروری کام کے لیے اس کا استعمال ہوتا تھا لیکن گلوبل ویلج بنتی اس دنیا میں اس کی اب کتنی اہمیت رہ گئی ہے۔

اسی بارے میں