بوفورس سکینڈل کے اہم کردار کواتروچی کا انتقال

Image caption کواتروچی راجیو گاندھی کے خاندان کے قریبی دوست تھے

بھارت میں بوفورس توپوں کے سودے میں دلالی کے الزامات کا سامنے کرنے والے اطالوی تاجر اوتوويو كواتروچي اٹلی میں انتقال کر گئے۔

73 سالہ كواتروچي کی اہلیہ ماریا نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کی آخری رسومات پیر کو ادا کی جائیں گی۔

ہندوستان کی سیاست کو بدل دینے والے بوفورس دلالی کیس میں اطالوی بزنس مین اوتوویو کواتروچی کا نام اکثر آتا رہا تھا لیکن پھر بھارت کی ایک عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کی وہ درخواست منظور کر لی تھی جس میں ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کی گزارش کی گئي تھی

اس فیصلے پر کافی ہنگامہ ہوا تھا کیونکہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ سی بی آئی نے کیس بند کرنے کی سفارش مرکز کی منموہن سنگھ حکومت کے اشارے پر کی تھی۔

سویڈن کی کمپنی اے بی بوفورز سے توپویں خریدنے کے لیے تقریباً چودہ سو کروڑ روپےکا سودا کیا گیا تھا، اس وقت راجیو گاندھی ملک کے وزیر اعظم تھے۔ الزام یہ تھا کہ راجیو گاندھی نے کواتروچی سمیت کچھ لوگوں کی مدد سے اس سودے میں کمیشن لیا تھا اور اگرچہ یہ الزام کبھی ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے نتیجے میں انیس سو نواسی میں ان کی حکومت چلی گئی تھی۔

کواتروچی راجیو گاندھی کے خاندان کے قریبی دوست تھے اور ان پر بھی اس معاملے میں دلالی کا الزام لگا تھا لیکن پوچھ گچھ کے لیے انہیں کبھی ہندوستان نہیں لایا جاسکا حالانکہ سی بی آئی کی درخواست پر انہیں انٹرپول نے دو مرتبہ حراست میں لیا تھا۔

كواتروچي کے مطابق ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور ان کی اہلیہ اور کانگریس پارٹی کی موجودہ لیڈر سونیا گاندھی کے قریب رہے تھے.

بوفورس دفاعی سودوں میں ہندوستان کا پہلا بڑا سکینڈل تھا اور انکم ٹیکس کے ٹرائبیونل نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کواتروچی اور ایک دوسرے ملزم ون چڈھا کو اکسٹھ کروڑ روپے کا کمیشن حاصل ہوا تھا۔ ون چڈھا کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں