’ہندو قوم پرست نہیں، قوم پرست ہندو ہوں ‘

Image caption کانگریس کے سینیئر رہنما سنیچر کو دہلی کے بی بی سی دفتر آئے اور قارئین سے براہ راست چیٹ کیا

کانگریس کے سینيئر رہنما اور جنرل سیکریٹری دگ وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ ہندو قوم پرست نہیں بلکہ قوم پرست ہندو ہیں اور نریندر مودی جہاں جس موضوع پر چاہیں ان سے بحث کرنے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے یہ بات سنیچر کو بی بی سی ہندی کے فیس بک کے صفحے پر براہ راست بات چیت کے دوران کہی۔

یاد رہے کہ کچھ دنوں پہلے ہی گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’میں ہندو ہوں، قوم پرست ہوں اور ہندو قوم پرست ہوں۔‘

فیس بک پر راجن کمار سنگھ نے پوچھا کہ’ کیا کانگریس کے پاس گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو گھیرنے کے لیے گجرات فساد ہی اکیلا حربہ ہے؟‘

اس کے جواب میں دگ وجے سنگھ نے کہا: ’ترقی کی ہی بات کریں تو کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتا جس کے مطابق گجرات نمبر ون ہو۔ بات غیر ملکی سرمایہ کاری کی ہو یا انسانی وسائل کی ترقی کی۔ سماجی شعبے میں کیے جانے والے سرکاری اخراجات میں بھی وہ پیچھے ہیں۔ مودی کے آنے کے بعد غربت بڑھی ہے، گھٹی نہیں ہے۔‘

بی بی سی کے ایک دوسرے قاری کمار سندیپ نے پوچھا کہ ’کیا کانگریس پارٹی نے دگ وجے سنگھ کو لوگوں کو لڑانے کے لیے چھوڑا ہوا ہے، ان کی بات سے بات بن جائے تو ٹھیک ورنہ یہ ان کی ذاتی رائے کہہ دی جاتی ہے؟‘

جواب میں دگ وجے سنگھ کہتے ہیں: ’میرا کوئی بیان کانگریس کے نظریات اور پالیسی کے خلاف نہیں ہوتا ہے۔ میں جو کہتا ہوں بغیر سوچے سمجھے نہیں کہتا۔‘

Image caption فیس بک پر لائیو چیٹ میں زیادہ تر سوالات مودی اور انتخابات کے سلسلے میں تھے

ٹھاکر دلیپ سنگھ نے پوچھا: ’کانگریس کی طرف سے وزیر اعظم کون ہوگا‘۔

اس کے جواب میں کانگریس لیڈر نے کہا: ’ہم پہلے سے کسی کے نام کا اعلان نہیں کرتے۔ جمہوری نظام میں وزیرِاعظم یا وزیر اعلیٰ کے نام کا پہلے سے اعلان نہیں کیا جاتا۔ اس کا فیصلہ اکثریت ملنے پر نومنتخب اراکین پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر چھوڑا جاتا ہے۔‘

سید سفيان نے پوچھا: ’کانگریس مکمل اکثریت سے کیوں نہیں جیتتی ہے، کیا پارٹی میں مضبوط رہنماؤں کی کمی ہے؟‘

دگ وجے نے کہا: ’سال 2009 کے بعد ہم نے جتنے بھی الیکشن لڑے ان میں دو ریاستوں کو چھوڑ کر سب جگہ ہمارا ووٹ فیصد اور نشستیں بڑھی ہیں۔‘

پریم جیسوال نے پوچھا کہ ’اگر بی جے پی مودی کو اور کانگریس راہل گاندھی کو وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے نامزذ کرتی ہے تو کیا ان کے درمیان لائیو ڈبیٹ ہوگی؟‘

دگ وجے سنگھ نے کہا: ’کانگریس کے پاس ہم لوگ ہیں نا! میں ہوں، شیلا دیکشت ہیں، ترون گوگوئي ہیں۔ پہلے ہم سے بحث کریں۔ نریندر مودی جہاں اور جس موضوع پر چاہیں دگ وجے ان سے بحث کرنے کو تیار ہے۔‘

دگ وجے سنگھ سے بات چیت کے دوران پوچھا گیا کہ کیا وہ ایودھیا میں رام للا (بچپن کے رام) کے درشن یا زیارت کو جائیں گے تو انہوں نے کہا: ’رام ذرے ذرے میں پھیلے ہیں اور میں ٹیکم گڑھ میں رام کے كنك مندر میں جاتا رہا ہوں۔۔۔ان کو ایک مقام پر محدود کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں