’طالبان کو القاعدہ سے تعلق ختم کرنا ہوگا‘

Image caption جو بائیدن پیر کی شام سے بھارت کا چار روزہ دورہ کر رہے ہیں

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ طالبان اگر افغانستان میں کوئی مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ’پہلے انہیں القاعدہ سے تعلق ختم اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘

مسٹر بائڈن پیر کی شام سے انڈیا کا چار روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نےکہا کہ جہاں تک مستقبل میں طالبان کے کردار کا سوال ہے تو امریکہ کا موقف واضح رہا ہے کہ بات چیت کے نتیجےمیں ہونے والے کسی بھی سمجھوتے کے تحت انہیں القاعدہ سے تعلق ختم کرنا اورتشدد کا راستہ ترک کرنا ہوگا اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔

مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیےطالبان نے حال ہی میں قطر میں ایک دفتر قائم کیا تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ بات چیت افغانستان کی قیادت اور طالبان کے درمیان ہوگی لیکن امریکی انتظامیہ پہلے یہ واضح کرچکی ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں۔

مسٹر بائڈن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغان فریقین آپس میں بات کریں کہ کس طرح تشدد ختم اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔

طالبان سےمذاکرات کی تجویز پر انڈیا کو کافی تشویش تھی لیکن گذشتہ ماہ جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری دلی آئے تھے تو وزیر خارجہ سلمان خورشیدنے واضح عندیہ دیا تھا کہ انڈیا اب اس تجویز کو ایک موقع دینےکے لیے تیار ہے۔

مسٹر بائڈن نے کہا کہ افغانستان میں انڈیا کے کردار کی ہم پر زور حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس نے افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانےکے لیے اپنے اقتصادی طاقت کا استعمال کیا ہے۔

پاکستان سے امریکہ کے روابط کے بارے میں مسٹر بائیڈن نے کہا کہ جیسے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کہا ہے جن شعبوں میں ہمارے درمیان اتفاق ہے انہیں فروغ دیا جائے اور اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی جائےگی۔

دلی میں قیام کے دوران مسٹر بائڈن صدر پرنب مکھرجی اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سے بات چیت کریں گے جس میں بتایا جاتا ہے کہ توجہ تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز رہےگی۔

دورے میں وفود کی سطح پر مذاکرات شامل نہیں ہیں۔ بحیثیت نائب صدر مسٹر بائڈن پہلی مرتبہ انڈیا کا دورہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں