سیکس ورکرز کی کالونی سے امریکی کالج تک

اٹھارہ سال کی عمر میں آنکھوں میں کئی خواب لیے شویتا كٹّي امریکہ کی جانب پرواز کے لیے تیار ہیں۔

ممبئی کے معروف ریڈ لائٹ علاقے میں رہنے والی شویتا کو نیویارک کے بارڈ کالج سے اٹھائیس لاکھ روپے کا وظیفہ حاصل ہوا ہے۔

بچپن کو یاد کرتے ہوئے شویتا بتاتی ہیں ’بچپن میں میرا کافی وقت كماٹھي پورا کی سیکس ورکرز کے درمیان گزرا۔ انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے میری حوصلہ افزائی کی کہ میں پڑھ لکھ کر اس ماحول سے نکل سکوں اور بڑی ہو کر انہیں بھی باہر نكالوں۔‘

شویتا کا خاندان آج بھی كماٹھي پورا میں رہتا ہے جہاں ان کی والدہ فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور 5500 روپے ماہانہ كماتي ہیں۔

اپنے سوتیلے باپ کے بارے میں بتاتے ہوئے شویتا نے کہا ’وہ ایک شرابی ہے جو گھر پر مار پٹائی اور جھگڑے کرتے تھے، ان کے رہتے ہوئے میں کبھی اچھا محسوس نہیں کرتی تھی۔‘

بچپن میں تین بار جنسی استحصال کا شکار ہو چکی شویتا صرف نو سال کی تھیں جب پہلی بار ان کے کسی قریبی رشتہ دار نے ہی یہ حرکت کی تھی۔

شویتا کو بچپن سے ہی اپنی رنگت کی وجہ سے بھی امتیازی سلوک برداشت کرنا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ سکول میں انہیں بچے گوبر کہہ کر چڑاتے تھے۔

16 سال کی عمر میں شویتا کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آيا جب وہ ایک غیرسرکاری تنظیم سے وابستہ ہوئیں۔ تنظیم کی بانی رابن چورسیا بتاتی ہیں ’شویتا کا ہمیشہ سے امریکہ جانے کا خواب تھا۔ وہ پڑھائی میں اچھی تھی اور ہمارے ساتھ آ کر اس کے اعتماد میں اور نکھار آیا۔‘

شویتا کے مطابق پہلے وہ خود سے نفرت کرنے لگی تھیں لیکن اس ادارے سے وابستہ ہوکر انہوں نے خود سے محبت کرنا سیکھ لیا اور انہیں اپنے ’بیک گراؤنڈ‘ کی اہمیت کا پتہ چلا۔

امریکی میگزین نیوز ویک نے اس سال کے اپریل پوائنٹس میں پاکستان کی ملالہ يوسف زئي کے ساتھ شویتا کا نام بھی ان خواتین میں شامل کیا تھا جو پچیس سال سے کم عمر میں کی ہیں اور معاشرے کے لیے ایک مثال بن کر ابھریں۔

بارڈ کالج امریکہ کے چوٹی کے دس مہنگے کالجوں میں سے ایک ہے۔ یہاں چار سال کی گریجویٹ ڈگری کے لیے تقریباً 30 لاکھ بھارتی روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن شویتا کو یہاں پڑھنے کے لیے مکمل وظیفہ ملا ہے۔

شویتا نے بتایا کہ کس طرح وہ انٹرنیٹ پر امریکی یونیورسٹی کے بارے میں تلاش کرتی رہتی تھیں۔ پھر ایک کانفرنس میں وہ اس کالج کے سابق طالب علم سے ملیں جنہوں نے بارڈ کالج میں داخلے کے لیے شویتا کے نام کی سفارش کی ہے۔

مشکل حالات میں بھی اپنے خوابوں کا ساتھ نہ چھوڑنے والی شویتا كٹّي کی کہانی نے کالج کے ایڈمشن حکام کا دل چھو لیا اور ساتھ ہی جب ان کا نام نیوز ویک میگزین میں آیا تو بارڈ کالج نے بخوشی سکالرشپ کے لیے بھی منظوری دے دی۔

امریکہ کی تعریف کرتے ہوئے شویتا نے کہا ’وہاں آپ کے بیک گراؤنڈ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ میں بھارت کی کسی یونیورسٹی سے یہ توقع بھی نہیں کر سکتی کہ وہ میرے حالات دیکھ کر مجھے داخلہ دیں گے۔‘

آنے والے چار سالوں کو لے کر شویتا بہت پرجوش ہیں اور وہ امریکہ میں نفسیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ شویتا کا خواب ہے کہ وہ بھارت واپس آکر ممبئی کے كماٹھي پورا ریڈ لائٹ ایریا میں ایک کلینک کھولیں جہاں وہ استحصال کا شکار ہونے والی خواتین کی مدد کر سکیں۔

شویتا بھارت میں جسم فروشی کو قانونی جواز دینے کے حق میں ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’اسے روکا نہیں جا سکتا کیونکہ غیر قانونی طور پر جاری اس دھندے میں قانون کے ہی بہت لوگ شامل ہیں۔ اسے قانونی بنانے سے جنسی ورکرز کو اپنے حق ملیں گے اور وہ ایک بہتر زندگی جی سکیں گی۔‘

شویتا کے مطابق اگر تعلیم اور برابری کے موقع سب کو ملیں تو ایک بہتر ہندوستان بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں