بٹلہ ہاؤس کیس میں شہزاد احمد قصوروار

بھارت کی ایک عدالت نے دلی کے بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلہ کیس میں ایک نوجوان شہزاد احمد کوایک پولیس افسر کے قتل کا قصوروار قرار دیا ہے۔

2008 میں پیش آنے والےاس واقعے میں مبینہ طور پر دو دہشت گرد اور دلی پولیس کے سب انسپکٹر موہن چندر شرما ہلاک ہوئے تھے۔

شہزاد احمد کو مجرمانہ سازش اور ثبوتوں کو ضائع کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گيا ہے۔ ان کی سزا کا تعین پیر کو کیا جائےگا اور انہیں قتل کی پاداش میں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

دلی کا بٹلہ ہاؤس علاقہ جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے نزدیک واقع ہے اور جامعہ ٹیچر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ ذیلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرےگی۔

شہزاد کے وکیل شمس قمر نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے موکل کی بے گناہی کے حق میں ٹھوس شواہد اور دلائل پیش کیے تھے اور وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر ستمبر2008 میں ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے ایک ہفتے قبل دلی میں کئی مقامات پر بم دھماکے کرنے والے مشتبہ دہشت گردوں کے متعلق پتہ چلا کہ وہ بٹلہ ہاؤس کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کا تعلق بقول ان کے انڈین مجاہدین نامی ایک دہشت گرد تنظیم سے تھا۔

پولیس کے چھاپے میں فلیٹ کے دو مکین مارے گئے تھے اور کاروائی کے دوران ایک سب انسپکٹر موہن چندر شرما بھی ہلاک ہوئے تھے۔

Image caption بٹلہ ہاؤس کے علاقے میں رہنے والے لوگوں نے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کی ہے

پولیس کے مطابق شہزاد احمد بھی چھاپے کے دوران فلیٹ میں موجود تھے اور گولیاں چلاتے ہوئے وہاں سے فرار ہوگئے تھے اور ان کی گولی سے ہی پولیس افسر موہن چندر شرما کی موت ہوئی تھی۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ انکاؤنٹرکا یہ واقعہ بہت متنازع رہا ہے۔ مقامی مسلمانوں کا الزام ہے کہ یہ انکاؤنٹر فرضی تھا اور اس میں جن مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمات دائر کیےگئے ہیں وہ سبھی بے قصور ہیں اور پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اس واقعے کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہوا تھا اور یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائے لیکن حکومت نے اس کی تفتیش کرانے سے انکار کر دیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے ان الزامات کی نفی ہوگئی ہے کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔

پی چدامبرم وزیر داخلہ رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اس معاملے کی فائل کا مطالعہ کیا ہے اور متعلقہ اہلکاروں سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا ’میں پوری طرح متفق ہوں کہ یہ ایک صحیح پولیس مقابلہ تھا اور جو دو مشتبہ لوگ مارے گئے تھے وہ دہشت گردی میں ملوث تھے۔‘

اسی بارے میں