شلوار قمیض پہننے سے متعلق نوٹس واپس

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا و طالبات
Image caption اس سے پہلے لڑکیوں پر کپڑوں کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں تھی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے طالبات کو شلوار قمیض پہننے اور باہر کھانا نہ کھانے سے متعلق نوٹس واپس لے لیا ہے۔

اے ایم یو کے وائس چانسلر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضميرالدين شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں قدامت پسند قرار دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جو نوٹس جاری ہوا تھا اس سے غلط فہمی ہو رہی تھی اس لیے ہم نے اس نوٹس کو واپس لے لیا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’یہ ایک جدید سیکولر یونیورسٹی ہے جہاں طالبات کو پوری آزادی ہے۔ وہ جینز پہن سکتی ہیں۔ ان سے صرف کرتا پہننے کے لیے کہا گیا تھا تاکہ علی گڑھ کی تہذیب کا بھی احترام کیا جا سکے۔‘

باہر کھانا نہ کھانے کے مشورے کے بارے میں انہوں نے کہا ’ہوٹل میں کھانے سے کسی کو نہیں روکا گیا ہے۔ ہم نے صرف ٹھیلوں پر کھانا کھانے پر پابندی لگائی تھی کیونکہ اس سے ان کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے۔ ہاسٹل میں ہم طالبات کو بہتر کھانا دیتے ہیں۔‘

طالبات کو انٹرنیٹ کے استعمال سے روکنے پر انہوں نے کہا ’یہ الزام سراسر غلط ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ طالبات کو انٹرنیٹ فراہم کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ جمعہ کو یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کے عبداللہ ہال کے منتظم کی جانب سے ایک نوٹس لگایا گیا تھا جس میں طالبات سے زرق برق لباس نہ پہننے، شلوار قمیض پہننے اور باہر جاتے وقت خود کو پوری طرح ڈھک کر نکلنے کو کہا گیا تھا۔

اس نوٹس کے قوانین پر عمل نہ کرنے پر 500 روپے جرمانہ عائد کرنے کی بات بھی کہی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اے ایم یو کے عبداللہ ہال میں تقریباً 1300 لڑکیاں رہتی ہیں۔ اس سے پہلے لڑکیوں پر کپڑوں کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں تھی۔

اس سال اپریل میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے طلبا کو لکھے ایک خط میں کہا تھا کہ طالب علم ان سے ملنے کے لیے شیروانی پہن کر آئیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی نے طالبات سے کہا تھا کہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی کی تہذیب کا خیال رکھتے ہوئے کپڑے پہنیں۔

اسی بارے میں