تیلنگانہ ریاست کا قیام، کہیں خوشی کہیں غم

Image caption رائل سیما اور ساحلی علاقے کے لوگ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں

بھارتی حکومت کے اس اعلان کے بعد کہ وہ آندھرا پردیش میں علیحدہ تیلنلگانہ ریاست کے تیار ہے ریاست کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

آندھرا پردیش میں اس اعلان سے جہاں تیلنگانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں رائل سیما اور ساحلی آندھرا کے لوگ ناراض ہیں۔

حکومت نے اعلان سے پہلے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور پولیس کے علاوہ کئی علاقوں میں نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔

بھارت کی حکمران جماعت کانگریس پارٹی نے گزشتہ روز ریاست تیلنگانہ کے قیام کی منظوری دی تھی۔

تیلنگانہ ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کے آس پاس والے دس اضلاع پر مبنی ہوگی لیکن حیدرآباد آئندہ دس برس کے لیے دونوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔

اس فیصلے سے رائل سیما اور ساحلی آندھرا کے لوگ ناراض ہیں جس کے خلاف آج ہڑتال کی گئی اور مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ہڑتال کے سبب بیشتر تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے۔

Image caption تیلنگانہ ریاست کے لیے جد و جہد کرنے والے ارکان اور اس کے حامیوں نے رات بھر جشن منایا جو کئی برسوں سے ریاست کا مطالبہ کرتے رہے تھے

اس ہڑتال کا سب سے زيادہ اثر ساحلی اضلاع کڈپا، چتّور، وشاکھاپٹنم اور کرشنا میں ہوا۔

متحدہ آندھرا ریاست کے حامیوں نے کئی مقامات پر اس فیصلے کے خلاف ریلیاں نکالیں۔

کانگریس پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی نے بطور احتجاج اپنے عہدوں سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حیدرآباد سے متصل اضلاع میں اس اعلان سے خوشی کا ماحول ہے جہاں کل رات سے ہی مختلف علاقوں میں جشن کا ماحول ہے۔

تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ سنہ 1956 میں اس وقت سے کیا جا رہا ہے جبکہ تیلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔

تیلنگانہ ریاست کے قیام کے حوالے سے حالیہ برسوں میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی تھی اور ریاست کے قیام کے حامیوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی اس علاقے میں ترقی پر توجہ نہیں دی ہے۔

تیلنگانہ کے قیام کو حمتی منظوری پارلیمان سے ملےگی جہاں بھارت کی انتیسویں ریاست کے قیام کی قرارداد کی اسمبلی سے منظوری لازمی ہے۔

اسی بارے میں