بھارت: طیارہ بردار بحری جہاز وکرانت کا افتتاح

Image caption بھارتی ایئر کرافٹ کیریئر وکرانت کو بھارت نے خود طیار کیا ہے

بھارت پیر کے روز دنیا کے ان پانچ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگيا ہے جنہوں نے خود طیارہ بردار بحری جہاز تیار کر لیا ہے۔

چالیس ہزار ٹن وزنی آئی این ایس وکرانت کو بھارت کے شہر کوچی میں لانچ کیا گیا اور اس کا افتتاح بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹونی کی اہلیہ ایلزبتھ اینٹونی نے کیا۔

اس کے افتتاح کے موقع پر اے کے اینٹونی نے کہا’آج کا یہ لانچ ایک طویل سفر کا صرف پہلا قدم ہے۔ اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی خود ساختہ صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے عمل کو مستقل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

اس موقع پر انہوں نے بھارتی بحریہ کو مضبوط کرنے کے لیے بھارتی کمپنیوں پر زور دیا۔

یہ طیارہ بردار بحری جہاز کئی تجربوں سے گزرے گا اور اس کو 2018 میں باقاعدہ طور پر بھارتی بحریہ میں شامل کیا جائےگا۔

بھارتی ایئر کرافٹ کیریئر سے دو روز قبل ہی بھارت نے ایٹمی آبدوز کا ایٹمی ری ایکٹر چلایا تھا۔

آئی این ایس اریہانت پہلی آبدوز ہے جس کو بھارت ہی میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ باضابطہ طور پر ایٹمی ممالک کے بعد بھارت پہلا ملک ہے جس نے ایٹمی آبدوز تیار کی ہے۔

واضح رہے کہ پانچ باضابطہ طور پر ایٹمی ممالک میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین شامل ہیں۔

پچھلے سال بھارت ان پانچ ممالک کے علاوہ چھٹا ملک بن گیا تھا جب اس نے روسی ساخت کی ایٹمی آبدوز اپنی بحریہ میں شامل کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر آئی این ایس اریہانت کے ایٹمی ری ایکٹر تجربے کامیاب رہتے ہیں تو اس کو دو سال میں بحریہ میں شامل کیا جائے گا۔

اریہانت میں ایک سو افراد کا عملہ آ سکتا ہے اور یہ زیادہ لمبے عرصے کے لیے زیر آب رہ سکتی ہے جس کے باعث اس کا کھوج لگانا مشکل ہو گا۔

اسی بارے میں