کشتواڑ کے معاملے پر پارلیمان میں ہنگامہ

Image caption ان فسادات میں اب تک بیس سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں

بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے علاقے کشتواڑ میں عید کے موقع پر ہونے والے ہندو مسلم فسادات کے معاملے پر بھارتی پارلیمان میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔

ادھر متاثرہ علاقے میں کشیدگی کے سبب سات اضلاع میں اب بھی کرفیو نافذ ہے اور فوج نے فلیگ مارچ کیا ہے۔

عید کے روز شروع ہونے والے یہ فسادات دیکھتے ہی دیکھتے مختلف علاقوں تک پھیل گئے اور ان میں اب تک تین افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔

کشمیر: ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال، کرفیو نافذ

کشمیر:پانچ روز میں 200 نوجوان گرفتار

کشمیر میں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے جاری

پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہی کشمیر کے وزیرِداخلہ سجاد کچلو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جموں میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ’ اب چونکہ ایک ریٹائرڑ جج تحقیقات کریں گے، میں تفتیش کے کسی بھی مرحلے میں روکاوٹ نہیں بننا چاہتا۔‘

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی اور باقی پارٹیوں نے وزیرداخلہ پر دانستہ طور پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرکے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سجاد کچلو کشتواڑ کے ہی باشندہ ہیں۔

کشتواڑ میں تشدد کے معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے پیر کو خوب ہنگامہ کیا۔ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ تشدد کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور فوج کو وقت پر تعینات نہیں کیا گیا۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ ’میں اس ایوان کو یقین کرنا چاہتا ہوں کہ 1990 والی پوزیشن پھر سے دہرائی نہیں جائے گی. ہر علاقے کے ہر شخص کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ سنہ 1990 میں تشدد کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کشمیر سے لوگوں کی نقل مکانی ہوئی تھی۔

Image caption جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

پی چدمبرم نے ایوان کو بتایا کہ فوج کے بلائے جانے کے بعد کشتواڑ میں کوئی بھی ناپسندیدہ واقعہ نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم سب ہندوستانی ہیں۔ کشتواڑ میں رہنے والے تین ہندوستانیوں کی جان گئی ہے اور یہ پورے ملک کے لئے دکھ کی بات ہے۔‘

ریاست میں ہونے والی گرفتاریوں کے سلسلے میں چدمبرم نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ نے کچھ گرفتاریاں کی ہیں اور ضرورت پڑنے پر کچھ دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں حکومت کی پوری مدد کرے گی.

اس دوران کشتواڑ میں پیر کو بھی کرفیو جاری رہا۔ ضلع میں عیدالفطر کے روز فرقہ وارانہ فسادات کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور یہاں چار روز سے زندگی معطل ہے۔

چار روز سے ضلع میں سخت ناکہ بندی اور فوجی گشت کے باوجود دو فرقوں کے درمیان تصادم ہوتے رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی شب کرفیو کے باوجود دو فرقوں کے درمیان تصادم ہوئے۔

پولیس نے کاروائی کی تو دو متحارب گروہوں نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا جس میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ اس واردات کے دوران ہی چار گاڑیاں بھی نذرآتش کی گئیں۔

کشتواڑ کی صورتحال کے خلاف کشمیر میں دو روز تک ہڑتال رہی لیکن پیر کو حالات کچھ حد تک بحال ہوگئے۔

قابل ذکر ہے کہ نواگست کی صبح عیدالفطر کی نماز کے دوران کشتواڑ کے ہندو اور مسلم شہریوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی جس نے بعد میں فسادات کی شکل اختیار کرلی۔

شرارت پسندوں پر پولیس کی فائرنگ سے اروند کمار نامی شہری مارا گیا جبکہ جسمانی طور ناخیز ایک مسلمان مزدور کو مشتعل ہجوم نے زندہ جلادیا۔ مقامی شہری آصف احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتواڑ کے قریبی علاقہ پاڈر میں بھی مسلح دیہی حفاظتی کمیٹی کے کارکنوں نے جس شہری کو اغوا کیا تھا اس کی لاش اتوار کی شام کو برآمد ہوئی۔

اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی کو سرینگر میں اپنے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہے۔

سید علی گیلانی پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے لیکن ان کے گھر کو سیل کردیا گیا اور صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سنیچر کی رات سے ہی حکومت نے کشمیر وادی میں وائرلیس انٹرنیٹ کو بھی بند کردیا ہے۔

جموں اور سرینگر کو ملانے والی تین سوکلومیٹر طویل پہاڑی شاہراہ پر بھی ٹریفک معطل کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے امرناتھ یاترا اور سیاحت متاثر ہوگئے ہیں۔ وادی میں ضروری اشیا کی قلّت بھی پیدا ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں