’بھارت مخالف سرگرمیاں ختم ہونے تک بہتر تعلقات مشکل‘

Image caption پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر ہمارے فوجیوں پر ایک بزدلانہ حملہ کیا گیا:من موہن سنگھ

بھارت کے وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک پاکستان’اپنی سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکتا۔‘

بھارت کے جشنِ آذادی کے موقع پر اپنے خطاب میں من موہن سنگھ نے مبینہ طور پر چھ اگست کو پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پانچ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ’بزدلانہ حرکت‘ قرار دیا ہے۔

بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے کشمیر میں سرحد پار کرکے یہ حملہ کیا تھا جس کی پاکستان نے تردید کی تھی۔

وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے جمعرات کو ٹی وی دکھائے جانے والے اپنے خطاب میں کہا کہ’ہم اپنے پڑوسیوں کے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں تاہم پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور اس کے زیرِانتظام سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔‘

’پاک بھارت دوستی اور امن کا خواب‘

’تعلقات بہتر کرنے کی کوشش اور جھڑپیں‘

’انڈیا اور بھارت دونوں قصوروار‘

پاک بھارت مسائل؟

پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تفصیل

بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ’حال ہی میں پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر ہمارے فوجیوں پر ایک بزدلانہ حملہ کیا گیا۔ہم مستقبل میں اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر گذشتہ تقربیاً 60 سال سے تنازعہ چل رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر حالیہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں شروع ہوگئی جب وہ امن مذاکرات شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر کشیدگی پہلی دفعہ شروع ہوئی ہے۔

گذشتہ جنوری میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر حملوں کی وجہ سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بھی چودہ اگست کو پاکستان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پاکستانی الزامات کی مذمت کی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان کی پارلیمان میں پیش کی گئی قرارداد میں بھارت پر کشمیر کی کنٹرول لائن پر ’بلا اشتعال حملے‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بھارتی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ایل او سی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں سے باہمی رشتے متاثر ہوتے ہیں۔

بھارت کا الزام ہے کہ چھ اگست کی صبح پاکستانی فوج کے جوان لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی خطے میں داخل ہوئے اور بھارتی فوج کے ایک دستے پر حملہ کر کے پانچ جوانوں کو ہلاک کر دیا۔

پاکستان اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے اور اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بھی طلب کیا ہے۔

جنوری سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس وقت بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے اس کے خطے میں داخل ہوکر دو بھارتی فوجیوں کو نہ صرف ہلاک کیا تھا بلکہ ان میں سے ایک کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا تھا۔

اسی پس منظر میں بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ قائم ڈال رہی ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سختی سے جواب دیا جائے اور موجودہ حالات میں پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے۔

چند روز پہلے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔

وزیرِاعظم پاکستان کے بقول دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو یقینی اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

اسی بارے میں