چھیاسٹھ برس میں ستر فیصد عوام غریب

Image caption قومی اوسط سے تین گنا زیادہ آمدنی والی نئی دہلی میں 70 فیصد عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے

اس ہفتے بھارت میں یوم آزادی پچھلے چھیاسٹھ برس کی طرح روایتی پرچم کشائی اور وزیراعظم کی تقریر کے ساتھ منایا گیا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وزیراعظم نے گزشتہ برسوں کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔

بھارتی قوم کو بتایاگیا کہ ملک نے پچھلے کچھ عرصے میں کتنی غیر معمولی ترقی کر لی ہے اور آنے والے دنوں میں ہر شعبے میں کیا کیا انقلاب آنے والا ہے۔

پچھلے بیس پچیس برس سے اگر تاریخی لال قعلہ سے وزراء اعظم کی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہو گا کہ جیسے بھارت ترقی کے آسمانوں کو چھو رہا ہے اور اس کا شمار اب تک دنیا کے امیر اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہو نا چاہیے تھا۔

ان تقاریر میں غریبوں کے لیے اتنی تعداد میں منصوبوں اور سکیموں کا اعلان کیاگیا ہے کہ شاید خود پالیسی سازوں کے لیے گننا مشکل ہو۔

حکومت نے گزشتہ دنوں پارلیمان میں ایک ’فوڈ سکیورٹی بل‘ پیش کیا ہے اور اگر یہ بل منظور ہو گیا تو یہ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی سکیم ہوگی۔

اس سکیم کے تحت ملک کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی کے سڑسٹھ فیصد عوام کو ایک کلو چاول تین روپے اور گیہوں دو روپے کی رعایتی قیمت پر مہیا کیا جائےگا۔

یوم آزادی کے موقع پر بھارت کی مختلف ریاستوں کے وزراء اعلیٰ نے ریاستی اور قومی اخبارات میں کروڑوں روپے کے اشتہارات شائع کرائے ہیں۔

ان اشتہارات میں ان وزراء اعلی کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انھیں پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورا بھارت ایک اقتصادی انقلاب سے گزر رہا ہے اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے اور جہاں نہیں ہے وہاں بس پہنچنے والی ہے۔

بھارت کی اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں میں خوشحالی کے دعوے کیے جا رہے ہیں جنہیں لاقانونیت، بے ایمانی، نااہلی اور بدانتظامی کی معراج تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں آزادی کے پینسٹھ برس بعد بھی لوگ بجلی اور سڑک کے لیے ترس رہے ہیں اور جہاں کوئی کام رشوت دیے بغیر نہیں ہوتا۔

اس ہفتے اخبارات میں جو اشتہارات شائع ہوئے ان میں نئی دہلی کی ریاستی حکومت کا بھی ایک اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی کے باشندوں کی فی کس آمدنی باقی ریاستوں کے مقابلے تین گنا زیادہ ہے۔ اسی اشتہار میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے فوڈ سکیورٹی کے تحت سستے داموں پر غلہ فراہم کرنے کے لیے تیس لاکھ لوگوں کے کارڈ بنا چکی ہے اور آئندہ چند مہینوں میں مزید چالیس لاکھ غریب لوگوں کے کارڈ بنائے جائیں گے۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ قومی اوسط سے تین گنا زیادہ آمدنی والی نئی دہلی میں 70 فی صد عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور سیاست دان اس تکلیف دہ حقیقت کو بھی اپنی کامیابی کے طور پر اجاگر کر رہے ہیں۔

ابھی کچھ دنوں پہلے بھارت میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ جو شخص ایک دن میں صرف 23 روپے خرچ کرنےکی ساعت رکھتا ہے وہ غریب ہے یا وہ جو پچیس روپے خرچ کر رہا ہے اسے غریب مانا جائے۔ یہ بحث ابھی جاری ہے اور آئندہ کئی برس تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

نئی دہلی کا یہ اشتہار ہو یا ’فوڈ سکیورٹی بل‘۔ یہ اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ آزادی کے چھیاسٹھ برس بھی ملک کی ستر فی صد آبادی محض تین وقت کا کھانا حاصل کرنے کے لیے جد وجہد کر رہی ہے۔

’فوڈ سکیورٹی بل‘ سرکاری طور پر پہلا اعتراف ہے کہ ملک کی ستر فیصد آبادی آج بھی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

پچھلے چھیاسٹھ برس سے سیاسی جماعتوں نے ملک کی غریب عوام کو اوپر نہیں اٹھنے دیا۔

ملک کی سیاسی جماعتیں اور سیاست آبادی کی اکثریت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہیں۔

شرمناک پہلو یہ ہے کہ ملک کا حکمراں طبقہ ملک کی تکلیف دہ غربت اور افلاس کو بھی اپنی سیاسی کامیابی بنا کر فروخت کر رہا ہے۔

اسی بارے میں