اجتماعی زیادتی کیس:تین گرفتار، دو کی تلاش

بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے ایک تئیس سالہ خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں تیسرے شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر دو افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہے۔

اس کیس میں سنیچر کو گرفتار کیے جانے والے تیسرے شخص کو اتوار کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا جبکہ پہلے سے گرفتار دو افراد حراست میں ہیں اور ان میں سے ایک ملزم کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اس لیے اس کے خلاف نابالغوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

دہلی میں ریپ کے سب سے زیادہ واقعات

بھارت میں بیت الخلاء کی کمی ریپ کا سبب

ریپ کے دارالحکومت میں کچھ بھی نہیں بدلا

ادھر ممبئی میں سنیچر کو سینکڑوں افراد نے خاموش احتجاج کیا جبکہ متعدد افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس واقعے کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔ اس احتجاج میں فوٹو جرنلسٹ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ اس خاتون فوٹو جرنلسٹ پر جمعرات کی شام ڈیوٹی کے دوران حملہ کیا گیا۔

اس حملے میں خاتون فوٹو جرنلسٹ زخمی ہو گئیں جنھیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔

حملہ آوروں نے خاتون کے ایک مرد دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی دستے تشکیل دینے کے علاوہ جمعے کو ان کے خاکے جاری کیے۔

اس سے پہلے پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کو ایک انیس سالہ بے روز گار شخص کو ممبئی کے جنوب سے گرفتار کیا جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کی گرفتاری سنیچر کی صبح عمل میں آئی۔

پولیس کے مطابق اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون فوٹو جرنلسٹ ممبئی میں ایک انگریزی رسالے کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ جمعرات کو شکتی نامی ملز میں اپنے مرد ساتھی کے ساتھ شوٹ کرنے گئی تھیں۔

ممبئی پولیس کمشنر ستیا پال سنگھ نے جمعرات کو بتایا کہ خاتون فوٹو جرنلسٹ اور ان کا مرد ساتھی ایک عمارت کی تصاویر لے رہے تھے جب ایک ملزم نے ان سے پوچھا کہ وہ ریلوے کی اس جائیداد پر کیا کر رہے ہیں؟

پولیس کمشنر کے مطابق ملزم نے اپنی مدد کے لیے دیگر افراد کو آواز دی جنھوں نے خاتون فوٹو جرنسلٹ کے مرد ساتھی کے ہاتھ بیلٹ سے باندھنے کے بعد خاتون کو جھاڑیوں میں لے جا کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ستیا پال سنگھ کا کہنا تھا کہ اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ جمعرات کی شام چھ بجے پیش آیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں 16 دسمبر سنہ 2012 کو جنوبی دہلی کے علاقے دوراکا میں ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

جنسی زیادتی کی شکار لڑکی کو حملے میں چوٹیں آئی تھیں جن کا پہلے دہلی کے ہسپتال اور پھر سنگاپور میں علاج ہوا لیکن علاج کے دوران ہی 29 دسمبر سنہ 2012 کو ان کی موت ہو گئی تھی۔

اس واقعہ کے خلاف بھارت میں مظاہرے ہوئے تھے جن میں خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنانے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں