کشمیر: عالمی موسیقی کے پروگرام کی مخالفت

Image caption جرمن سفیر اس خطے میں بھارت کے ذریعے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کریں: علی شاہ گیلانی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے معروف بین الااقوامی مغربی کلاسیکی موسیقار زوبن مہتا کے سرینگر میں موسیقی کے پروگرام کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔

موسیقی کا یہ پروگرام سات ستمبر کو سری نگر میں جرمنی کا سفارتخانہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے تعاون سے منعقد کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے لیے ملک اور بیرون ملک سے ڈیڑھ ہزار اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔

پروگرام کے مطابق تمام یوروپی ممالک کے سفیر بھی اس کنسرٹ کے لیے سری نگر میں ہوں گے۔

دہلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق کشمیری رہنماسید علی شاہ گیلانی نے جرمنی کے سفیر مائیکل اسٹینر کو لکھا ہے کہ’کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور متنازع خطے میں کسی بین الاقوامی پروگرام کے انعقاد سے اس کی متنازع حیثیت میں مداخلت ہوتی ہے‘۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ’1983 میں ہم نے انڈیا ویسٹ انڈیز کرکٹ میچ کی بھی مخالفت کی تھی کیونکہ اس طرح کے بین الاقوامی پروگراموں کو کشمیری کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے‘۔

جرمن سفیرگزشتہ ہفتے اس کنسرٹ کی تیاری کے سلسلے میں سری نگر میں تھے۔ انہوں نے سول سوسائٹی کے ارکان سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ تمام یورپی ممالک کے سفیر موسیقی کےاس یادگار پروگرام میں شریک ہونگے۔

گیلانی نے جرمنی کے سفیر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خطے میں بھارت کے ذریعے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کریں۔

انہوں نے یوروپی یونین کے ایک وفد کے 2004 کے سرینگر کے دورے کو یاد دلاتے ہو کہا ہے کہ’اس وفد نے کشمیر کو ایک خوبصورت جیل قرار دیا تھا۔ یوروپی یونین کے ایک ذمےدار رکن کے طور پر جرمنی کے لیے یہ نامناسب ہو گا کہ وہ قیدیوں کے لیے موسیقی کی محفل کا اہتمام کرے‘۔

’احساس کشمیر‘ نام کا یہ پروگرام سر ی نگر کی ڈل جھیل کے کنارے شالیمار باغ میں منعقد کیا جائے گا۔اس کنسرٹ کا لوگو کشمیر کے معروف فنکار مسعود حسین تیار کر رہے ہیں ۔پروگرام کی نظامت معروف فلمی اداکارگل پناگ کریں گی اور اس پروگرام کو پوری دنیا میں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جا ئے گا۔

Image caption ’احساس کشمیر‘ نام کا یہ پروگرام سر ی نگر کی ڈل جھیل کے کنارے شالیمارباغ میں منعقد کیا جائے گا

زوبن مہتا’بویرین سٹیٹ اورکیسٹرا‘ کنڈکٹ کریں گے۔بویرین اورکسٹرا کلاسیکل موسیقی میں دنیا کے بہترین اورکسٹرا میں شمار کیا جاتا ہے۔

بھارتی نژاد زوبن مہتا نے کچھ عرصے قبل یہ کہا تھا کہ کشمیر میں موسیقی کا پروگرام پیش کرنا ان کا خواب ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’میری یہ تمنا ہے کہ میں کشمیر میں اپنی موسیقی پیش کر سکوں ‘۔

کشمیر کے دوسرے علیحدگی پسند رہنماؤں کی طرف سے اس کنسرٹ کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں