بہار سیلاب: 160 افراد ہلاک 55 لاکھ متاثر

بہار سیلاب (فائل فوٹو)
Image caption گنگا ندی میں آئے سیلاب سے بہار کے 20 اضلاع متاثر ہوئے ہیں

بھارت کی شمالی ریاست بہار میں حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب میں 160 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ تقریباً 55 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے محکمے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اہلکار نے ریاست کے دارالحکومت پٹنہ میں بتایا ہے کہ سیلاب سے ریاست کے تقریباً 20 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

بہار: سیلاب سے قریباً 30 لاکھ متاثر

بہار سیلاب: ایک کروڑ افراد متاثر

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے آفسر آن سپیشل ڈیوٹی وپن کمار رائے نے کہا ہے کہ ’گنگا ندی میں آنے والے سیلاب کے سبب بہار کے دس اضلاع بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان اضلاع میں پٹنہ، بھوج پور، بکسر، سارن، بھاگل پور، کٹیہار، ویشالی اور بیگو سرائے وغیرہ شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کے محکمے نے سیلاب میں مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضے دیے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بہار کے وزیر اعلٰی نے پیر کو کہا تھا کہ حکومت ریاست میں سیلاب کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ بہار پولیس اس ضمن میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنگی پیمانے پر امدادی کام جاری ہیں اور 20 اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو سو کلو گرام اناج فراہم کیا گيا ہے۔

مسٹر رائے نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اب تک قریب تین لاکھ کوئنٹل اناج تقسیم کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثر علاقوں میں 50 ہزار 550 پولی تھیلین شیٹس تقسیم کی گئی ہیں اور ابھی تک متاثر افراد میں 1500 روپے فی خاندان کے حساب سے 32۔24 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

ریاستی دارالحکومت پٹنہ کی صورت حال کے بارے میں انھوں نے کہا کہ صورِت حال قابو میں ہے اور چیف سیریٹری کی سطح پر حالات پر روزانہ نظر رکھی جا رہی ہے اور نصیر گنج سے رانی گھاٹ تک حفاظتی بند بنایا گيا ہے تاکہ شہر میں پانی داخل نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ ریاست میں سنہ 2007 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں قریب ایک کڑور افراد متاثر ہوئے تھے اور اس سیلاب کو گزشتہ پچاس سال میں آنے والے بدترین سیلاب سے تعبیر کیا گيا تھا۔

اس کے بعد 2008 میں ریاست کی کوسی ندی میں پانی کی سطح میں اضافے سے آنے والے سیلاب نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی تھی اور اس میں قریب 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں