بھارت:ایوانِ بالا سے بھی فوڈ سکیورٹی بل منظور

Image caption اس سکیم کے تحت ملک کے قریب 80 کروڑ افراد آئیں گے جنہیں سستی قیمتوں پر غذائی اجناس فراہم کیا جائے گا

بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا نے غریبوں کو غذائی تحفظ فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی فلاح و بہبود والی سکیم ’فوڈ سکیورٹی بل‘ کو منظوری دے دی ہے۔

لوک سبھا نے اس بل کی پہلے ہی منظوری دے رکھی ہے اور پیر کو رات دیر تک ایوان بالا میں اس بل پر بحث ہونے کے بعد منگل کو اس بل کی منظوری دے دی گئی۔

بھارت نے ملک کی تقریباً 67 فیصد غریب آبادی کے لیے سستی قیمت پر غذائی اجناس فراہم کرنے والے غذائی تحفظ کے پروگرام کو پہلے ایک آرڈیننس کے ذریعے لاگو کیا تھا لیکن اب دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد یہ بل قانونی حیثیت کا حامل ہو جائے گا۔

منگل کو راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی موجود تھے۔ بحث کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاستوں کو بھی اس معاملے میں برابری کا درجہ ملنا چاہیے۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے الزام لگایا کہ حکومت کا یہ بل پرانا ہے ، جسے نئی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

کانگریس کی سربراہی والی مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ فوڈ سکیورٹی قانون کے تحت تقریباً 67 فیصد ہندوستانیوں کو سستی قیمت پر غذائي اجناس فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

Image caption راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ بل پرانا ہے ، جسے نئے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے

راجیہ سبھا میں بحث کے دوران اپوزیشن نے انتخابات کے پیش نظر اسے حکومت کی چال سے تعبیر کیا ہے۔ اپوزیشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک ماہ پارلیمنٹ کا اجلاس ہونا تھا، لیکن حکومت اسے آرڈیننس کے طور پر لے کر کیوں آئی۔

مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور انا ڈی ایم کے نے بھی کہا کہ حکومت جلد بازی میں اسے لے کر آئی تھی۔

فوڈ سکیورٹی بل کے تحت 82 کروڑ لوگوں یعنی ملک کی دو تہائی آبادی کو ماہانہ سستی قیمت پر اناج مہیا کرانے کی تجویز ہے۔

دیہی علاقوں میں 75 فیصد اور شہری علاقوں میں 50 فیصد لوگوں کو ہر مہینے پانچ کلو اناج۔ تین روپے فی کلو چاول، دو روپے کلو گیہوں اور جوار ایک روپے کلو میں فراہم کرایا جائےگا۔ ان کی قیمتوں میں 3 سال بعد ہی کوئی تبدیلی کی جائے گی۔

انتيودے یعنی سب سے غریب کارڈ والے خاندان کو مہینے میں 35 کلو اناج دیا جائے گا۔

ریاستی حکومت اگر اناج فراہم کرانے میں ناکام رہتی ہے تو اُسے غذائی تحظ کے تحت غریبوں کو ہرجانہ دینا ہوگا۔ یہ الاؤنس کتنا ہوگا ، یہ طے کرنے کی ذمہ داری مرکز کی ہوگی۔ قومی اور ریاستی سطح پر غریبوں کی تعداد منصوبہ بندی کمیشن طے کرے گا جبکہ غریبوں کی شناخت کی ذمہ داری ریاست کی ہوگي۔

ہر حاملہ خاتون کو چھ ہزار روپے ملیں گے۔ چھ ماہ سے 14 سال تک کے بچوں کو راشن یا کھانا مہیا کرایا جائے گا۔

خاندان کی معمر خاتون رکن کو سربراہ سمجھا جائے گا۔ راشن کارڈ اسی کے نام پر بنے گا۔ اس منصوبے پر 1،24،724 کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔

خوراک کے تحفظ منصوبہ کے نفاذ پر 14-2013 میں 612.3 لاکھ ٹن اناج کی ضرورت پڑے گی۔

اسی بارے میں