کولکتہ کے ہسپتال میں ’35 بچوں کی موت‘

Image caption کولکاتہ بی سی رائے ہسپتال برائے اطفال پر اس سے قبل بھی لاپرواہی کا الزام لگا تھا

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے ایک سرکاری ہسپتال پر الزام ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے وہاں گزشتہ چار دنوں میں 30 سے زیادہ بچوں کی موت ہو گئی ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ہسپتال کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس ہسپتال میں 35 بچوں کی موت ہوئی ہے اور ان تمام کو مردہ حالت میں ہسپتال سے لے جایا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں مزید بارہ بچے ہلاک

واضح رہے کہ کولکتہ میں قائم بی سی رائے ہسپتال برائے اطفال شمالی بھارت میں اطفال کے علاج کا سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں بھارت کی مختلف ریاستوں سے علاج کے لیے اطفال کو ریفر کیا جاتا ہے۔

بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بی سی رائے پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف پيڈیئٹرك سائنسز ہسپتال کے عملے نے بچوں کو مناسب دوائیں نہیں دیں، ان کے علاج میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے ہسپتال میں خراب انتظام کی بھی شکایت کی ہے۔

دوسری جانب ہسپتال نے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی سے انکار کیا ہے۔

اس بابت ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو انتہائي نازک حالات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور معاملہ ڈاکٹروں کے ہاتھ سے باہر نکل چکا تھا۔

بچوں کی صحت کی نگرانی کرنے والی ورکنگ کمیٹی کے سربراہ تریدیب بینرجی نے کہا: ’محکمہ صحت ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ہدایات کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔‘

انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتال کی یہ کوشش ہے کہ یہاں ہر ایک بچے کو بچایا جائے اور یہاں ایک بھی موت نہ ہو۔‘

اس معاملے پر ریاست مغربی بنگال کے محکمہ صحت نے تین رکنی جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے ہسپتال پر کسی بھی طرح کی لاپرواہی کے الزام کو مسترد کر دیا اور ہسپتال کو ’کلین چٹ‘ دے دی۔

یاد رہے کہ مفت علاج فراہم کرانے والے اس ہسپتال پر 2011 میں دو دنوں میں 18 بچوں کی لاپرواہی کی وجہ سے موت کا الزام لگا تھا۔ بعد میں اس معاملے میں بھی ہسپتال کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں