’انتخابات کے لیے فسادات ضروری ہیں‘

Image caption ہزاروں متاثرین نے پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے جو خوف سے واپس ہونا نہیں چاہتے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً سوا سو کلو میٹر دور ضلع مظفر نگر اس وقت شمالی بھارت کی بدترین سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔

ریاست کی دو بڑی جماعتیں سماج وادی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ ضلع میں ہندو مسلم فسادات کس نے کرایا۔

پندرہ دن پہلے ہونے والے فسادات میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور اس وقت تقریبـاً چالیس ہزار افراد نے پناہ گزین کمیپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

فسادات کے دوران سینکڑوں گاؤں میں مسلمانوں کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ جان بچا کر بھاگنے والے بیشتر افراد اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ اپنے گاؤں واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بہت سے متاثرین کا خیال ہے کہ فسادات مسلمانوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے کیےگئے تھے۔ انھیں خدشہ ہے وہ اپنی زمین واپس حاصل نہیں کر سکیں گے اور ماضی کے فسادات کی طرح اس بار بھی مجرموں کو شاید کوئی سزا نہ مل سکے۔

یہ فسادات خود ساختہ نوعیت کے نہیں تھے اور اگر گزرے ہوئے دنوں کے واقعات پر نظر ڈالیں تو یہ صاف طور پر پتہ چلتا ہے یہ فسادات کرائے گئے تھے اور ان میں سرگرم سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

تجزیہ کار اور صحافی فسادات کے دو نظریے پیش کر رہے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ یہ فسادات ریاست میں ملائم سنگھ یادو کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی نے کرائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سماج وادی پارٹی کو اقتدار میں رہنے کے لیے ریاست کے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنا بہت ضروری ہے اور وہ مسلمانوں کو فسادات سے خوفزدہ کر کے خود کو ان کے مسیحا طور پر پیش کرنا چاہے گی اور اس طرح وہ انتخابات میں مسلمانوں کا ووٹ اجتماعی طور پر حاصل کر سکتی ہے اور ان کے بقول اسی لیے فسادات پر قابو پانے میں تاخیر سے کام لیا گیا۔

دوسرے نظریے کے مطابق بی جے پی اتر پردیش میں بڑی تعداد میں پارلیمانی نشستیں جیتے بغیر مرکز میں اقتدار میں آنے کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ فسادات کے ذریعے وہ سنہ 1996 اور 1998 کی طرح ہندو ووٹ متحد کرنا چاہتی ہے۔

بی جے پی کی قومی قیادت پوری قوت سے اپنے ان تمام مقامی رہنماؤں کا دفاع کر رہی ہے جن پر فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی محاذی ہندو تنطیمیں انتخابات سے قبل ریاست میں جگہ جگہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ رائے دہندگان کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا جا سکے۔

مظفر نگر کے فساد کو بی جے کی پشت پناہی حاصل رہی ہے یا ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کی یا پھر یہ دونوں ہی جماعتیں اس میں کسی نہ کسی نہ کسی شکل میں شامل رہی ہیں اس میں فرق کر پانا بڑا مشکل ہے۔

فسادات کے پندرہ دن گزرنے کے بعد سیاسی رہنماوں میں سے ایک دو کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد وہ معمول کے مطابق ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔ کچھ عرصے بعد ان کے خلاف مقدمہ یا تو واپس لے لیا جائےگا یا ناکافی ثبوتوں کے سبب ان کے خلاف فسادات بھڑکانے کے مقدمات ختم ہو جائیں گے۔

کچھ دنوں بعد اپنے مال و اسباب سے لٹے، پولیتھین کے کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہزاروں خوفزدہ پناہ گزینوں کو کوئی پو چھنے والا نہیں ہو گا۔

کچھ دنوں میں پھر فساد ہوگا۔ کچھ لو گ مارے جائیں گے۔ پھر ہزاروں لوگ بے گھر ہوں گے اور پچھلے 65 برس کی طرح اس بار بھی اس انسانی تباہی کا قصوروار کوئی نہیں ہوگا۔ ایک بار پھر یہ دانشورانہ بحث چھڑے گی کہ اس کا ذمہ دار کون تھا؟

اسی بارے میں