راجستھان: مے کشوں کے لیے بری خبر

Image caption شراب اور نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والے ریاست راجستھان کے سرکاری ملازمین اس سے متاثر ہو سکتے ہیں

بھارت میں شراب پینے اور پلانے کے شوقین سرکاری ملازمین کے لیے ایک بری خبر ہے۔

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں سرکاری فرمان جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم شراب پی کر اپنی بیوی، بچوں اور ماں باپ کو تکلیف دے گا تو اس کی آدھی تنخواہ اہل خانہ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گی۔

راجستھان سے صحافی نارائن باریٹھ کے مطابق خواتین تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

راجستھان میں تقریباً سات لاکھ سرکاری ملازم ہیں جبکہ شراب کے پندرہ بوٹلنگ پلانٹ ہیں اور تقریباً ایک ہزار دکانیں ہیں۔

نارائن باریٹھ نے بتایا ہے کہ اس بارے میں ریاستی حکومت نے فرمان جاری کیا ہے جس کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کو شراب پینے کی عادت ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کے تئیں اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کر رہا ہے، تو اس کی تنخواہ کا نصف حصہ بیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حکومت نے یہ قدم اسی بارے میں قائم کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد اٹھایا ہے۔

ریاست میں شراب نوشی کے برے اثرات کا نوٹس لیتے ہوئے مہاتما گاندھی کے نظریے کی حامل بعض تنظیموں نے اس بارے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت سے شکایت کی تھی۔

Image caption راجستھان میں شراب کے 15 کارخانے اور ہزار سے زیادہ دکانیں ہیں

ایک سابق رکن اسمبلی گروشرن چھابڑا نے شراب پر مکمل پابندی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔ حکومت نے ان کی مانگ پر غور کیا لیکن حکومت کو پوری طرح شراب پر پابندی لگانا مشکل نظر آیا لہٰذا حکومت نے اب ان اقدامات کا سہارا لیا ہے۔

حکومت نے سول سروسز کے طرز عمل کے قوانین میں تبدیلی کر دی ہے۔ اس کے تحت اگر راجستھان حکومت کا کوئی ملازم شراب کا عادی ہے اور وہ اپنے خاندان کو ٹھیک سے پیٹ بھر خوراک فراہم نہیں کر رہا ہے تو اسے اپنی تنخواہ کے نصف حصے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اہل خانہ میں بیوی، نابالغ یا معذور بیٹے بیٹی اور بزرگ ماں باپ کو شامل کیا گیا ہے۔

سرکاری حکم کے مطابق ’اگر کسی سرکاری ملازم کے طرز عمل کے متعلق ان کے اہل خانہ کا کوئی فرد شکایت درج کرتا ہے یا کسی قابل اعتماد ذرائع سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ سرکاری ملازم شراب یا منشیات جیسے نشوں کا عادی ہے تو جانچ کے بعد اس کی آدھی تنخواہ اس کی بیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔‘

بہر حال ابھی اس کا بات کا کوئی صحیح اعدادوشمار موجود نہیں ہیں کہ کتنے سرکاری ملازمین شراب کے عادی ہیں۔ مگر سرکاری اعداد وشمار کے حساب سے سرکاری خزانے میں محصول جمع کرانے شراب کے محکمہ کا دوسرا مقام ہے۔

اسی بارے میں