انڈیا ڈائری

Image caption سشما سواراج نے قسم کھائی کہ اگر غیر ملکی سونیا پی ایم بن جاتی ہیں تو ’وہ اپنا سر منڈوا دیں گی

جمہوریت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں آپ کو خواب دیکھنے کی تو مکمل آزادی ہوتی ہے لیکن ان کے پورا ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔

پھر بھی سشما سواراج پر نظر رکھیے گا۔ وہ 2014 میں وزیر اعظم بن سکتی ہیں! بشرطیکہ بی جے پی الیکشن تو جیت جائے لیکن واضح اکثریت کے ساتھ نہیں، اور نریندر مودی کے نام پر اتفاق نہ ہوسکے۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے، لیکن پہلے اور بھی بہت کچھ ہوا ہے۔

بات چودہ سال پرانی ہے۔

انڈیا میں 1999 کے الیکشن سے پہلے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشانے پر تھیں کیونکہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کی بہو بننے سے پہلے وہ اطالوی شہری تھیں۔ بی جے پی ’غیر ملکی‘ سونیا کو ان کی حییثیت دکھانا چاہتی تھی لہٰذا سشما سواراج کو لوک سبھا کے الیکشن میں سونیا گاندھی کے سامنے میدان میں اتارا گیا۔

عظیم الشان مقابلہ ہوا لیکن ان ناسمجھ ہم وطنوں کا کیا کیجیے؟ سو فیصد ہندوستانی ووٹروں نے شدھ دیسی سشما کے مقابلے میں غیر ملکی سونیا کو جتا دیا۔

لیکن کچھ لوگ ہیں کہ سبق کہاں سیکھتے ہیں۔ 2004 میں کانگریس نے شاندار واپسی کی اور جب یہ ذکر چل ہی رہا تھا کہ سونیا گاندھی وزیر اعظم بنیں گی، سشما سواراج نے قسم کھائی کہ اگر غیر ملکی سونیا پی ایم بن جاتی ہیں تو ’وہ اپنا سر منڈوا دیں گی!‘

سونیا گاندھی کو شاید یہ بات کچھ اچھی نہیں لگی۔ لہٰذا انہوں نے پی ایم کی ذمہ داری من موہن سنگھ کو سونپ دی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ من موہن سنگھ کو وہ کرسی مل گئی جو انہیں ویسے کبھی نہ ملتی، سونیا گاندھی کو وہ ’پاور‘ مل گئی جو وزیر اعظم بنے بغیر انہیں نہیں ملنی چاہیے تھی اور شاید سب سے زیادہ فائدہ سشما سواراج کو ہوا، وہ سر منڈوانے سے بچ گئیں!

اب پھر الیکشن ہونے کو ہیں اور سشما سواراج نے پھر کہا ہے کہ سونیا گاندھی اگر اب بھی وزیر اعظم بنتی ہیں تو یہ ملک کے سوا ارب عوام کی توہین ہوگی!

سشما جی، مسئلہ یہ ہے کہ آپ تو اپنے ہی لیڈر نریندر مودی کو بھی وزیر اعظم بنانے کےخلاف ہیں حالانکہ وہ تو زندگی میں شاید ہی کبھی ملک سے باہر گئے ہوں!

سب جانتے ہیں کہ آپ نے بھی ایک خواب دیکھا ہے، ہو سکتا ہے کہ من موہن سنگھ کی طرح ’ری باؤنڈ‘ پر بال آپ کے پاس بھی آجائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عوام خود اپنی توہین کرانے پر آمادہ ہوں تو آپ انہیں کیسے روک لیں گی؟ 1999 یاد ہے نا؟

جمہوریت کا یہ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے!

خطروں کے کھلاڑی

Image caption جنرل مشرف نے خطرے کے باوجود کارگل کی برفیلی بلندیوں پر اپنے جوانوں کے ساتھ ایک رات گزاری تو یہ ایک بہادر کمانڈر کی نشانی تھی: جنرل وی کے سنگھ

جنرل پرویز مشرف کا پاکستان میں بھلے ہی آج کل وقت خراب چل رہا ہو، ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ ان سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔

فروری میں انہوں نے کہا تھا کہ 1999 میں لڑائی شروع ہونے سے ذرا پہلے جب جنرل مشرف نے خطرے کے باوجود کارگل کی برفیلی بلندیوں پر اپنے جوانوں کے ساتھ ایک رات گزاری تو یہ ایک بہادر کمانڈر کی نشانی تھی۔

بات یہیں ختم ہو جاتی تو بھی خیر تھی۔ جنرل سنگھ گذشتہ برس ریٹائر ہوئے، یا کر دیے گئے، حالانکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی عمر اتنی زیادہ نہیں جتنا حکومت سمجھ رہی ہے! (ان کا کہنا ہے کہ فوج کے ریکارڈ میں ان کی عمر ایک سال زیادہ لکھی ہوئی تھی)

عمر کا تنازع تلخیوں میں گھر گیا۔ اب اس سلسلے میں خود فوج نے ہی حکومت کو ایک رپورٹ دی ہے جس میں ان کے خلاف مبینہ طور پر تین انتہائی سنگین الزامات شامل ہیں:

کشمیر میں عمر عبداللہ حکومت کوگرانے کی کوشش، حکومتی اہلکاروں اور سیاستدانوں کی بات چیت خفیہ طور پر ٹیپ کرنے، اور ایک غیر سرکاری ادارے کی مدد سے جنرل بکرم سنگھ کو فوج کا سربراہ بننے سے روکنے کی سازش۔

نسبتاً چھوٹے پیمانے پر ہی صحیح، سب کچھ سنا سنا سا لگتا ہے۔ جنرل صاحب آپ کورٹ کچہری کے چکر لگاتے ہوئے اچھے نہیں لگیں گے لیکن جمہوریت کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومت ٹھان لے تو جواب دہی سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہماری بات تو آپ مانیں گے نہیں لیکن چاہیں تو جنرل مشرف سے ہی پوچھ لیجیے۔

انڈین بکیز اپنے پیروں پر

انڈین پریمیئر لیگ سپاٹ فکسنگ کیس میں ممبئی پولیس نے پاکستانی امپائر اسد رؤف کو تو ملزم بنایا ہے لیکن فرد جرم میں انڈر ورلڈ کے سرغنہ داؤد ابراہیم کا نام نہیں ہے۔ (انڈیا کا پرانا الزام ہے کہ داؤد ابراہیم نے کراچی میں پناہ لے رکھی ہے)

اگر ممبئی پولیس کا خیال درست ہے تو لگتا ہے کہ آخرکار انڈیا میں بکیز اب اپنے پروں پر کھڑے ہونے لگے ہیں۔

اسی بارے میں