بھارت: ہم جنس پرستوں کے لیے خصوصی ریڈیو

دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کو اپنی شناخت اور حقوق کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی رہی ہے اور بھارت میں گزشتہ کچھ عرصے میں ہم جنس پرستی پر خیالات اور ذہنیت میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

اب بھارت میں ہم جنس پرستی جیسے موضوعات پر فلمیں بننے لگی ہیں۔ ان کے اپنے فلم فیسٹیول ہونے لگے ہیں، ہم جنس پرست افراد ریئیلٹي شو میں حصہ لینے لگے ہیں اور حال ہی میں ان کے لیے ایک ریڈیو سٹیشن بھی آ گیا ہے۔

’کیو ریڈیو‘ بھارت کا پہلا ایسا ریڈیو سٹیشن ہے جو ہم جنس پرست افراد کی آواز سنے گا اور ان کی سوچ اور جدوجہد کو آواز دے گا۔

بنگلور میں واقع کمپنی ’ریڈیو والا‘ انٹرنیٹ پر مختلف نوعیت کے ریڈیو سٹیشن چلاتی ہے۔ کیو ریڈیو بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

’ریڈیو والا‘ کے بانی انل شريوتس اور پروجیکٹ منیجر ویشالی نے بی بی سی کو اپنے اس خاص ریڈیو کے بارے میں بتایا۔

ہم جنس پرستی کےلیےمخصوص ریڈیو سٹیشن اپنے آپ میں ایک منفرد آغاز ہے۔ انل بتاتے ہیں کہ ان کے پاس آج سے پہلے ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جہاں ہم جنس دل کھول کر اپنی بات کہہ سکیں، اپنے جیسے لوگوں سے بات چیت کر سکیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہم خوش ہیں کہ ہم نے اس کام میں پہل کی۔ سٹیشن شروع کرنے سے پہلے ہم نے ہم جنس پرستی کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کی۔ سچ کہوں تو مجھے تحقیق سے سخت نفرت ہے۔ میں ہمیشہ اپنے دل کی آواز سنتا ہوں۔‘

’کیو ریڈیو‘ پر دن بھر میں چار شو نشر ہوتے ہیں جن پروگراموں میں بات چیت کے ساتھ موسیقی بھی شامل ہے۔ شو میں سٹوڈیو میں مہمان بلائے جاتے ہیں، کچھ میں لائیو کالیں بھی لی جاتی ہیں۔ سننے والوں کو اپنے خیالات ریکارڈ کرکے بھیجنے کےلیےبھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

ہم جنس پرستوں کے ریڈیو میں پروگرام پیش کرنے والوں کے بارے میں انل کہتے ہیں ’ہمارے کچھ ریڈیو میزبان جنہیں ریڈیو جوکی کہا جاتا ہے خود ہم جنس کمیونٹی کا حصہ ہیں لیکن کچھ عام لوگ بھی ہیں۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ تمام میزبان ہم جنس پرست ہوں۔‘

’کیو ریڈیو‘ کو لوگ پسند کر رہے ہیں۔ اسے کئی اداروں کی طرف سے حوصلہ افزائی بھی ملنا شروع ہو گئی ہے۔

فیس بک پر ’کیو ریڈیو‘ کے ایک ہفتے میں دو ہزار سے بھی زیادہ لوگ فین بن چکے ہیں۔

انل بتاتے ہیں ’ہمارے کیو ریڈیو پر اچھی رائے ملنے لگی ہے، کئی غیر سرکاری ادارے ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں‘۔

ویسے تو بھارت سے باہر ایسے کئی ریڈیو سٹیشن ہیں جو ہم جنس پرستوں کے لیے ہیں۔ انل بتاتے ہیں کہ ’کیو ریڈیو‘ کو انگلینڈ اور یورپ سے بھی کئی ای میل ملے ہیں کہ وہ اس سٹیشن کی نشریات سننا چاہتے ہیں۔

Image caption ہریش ایر انڈیا کے جانے مانے انسانی حقوق کے کارکن ہیں

انل نے بتایا کہ بہت سے ہم جنس پرست موسیقار ہیں اور ریڈیو ان سب کی موسیقی کی تشہیر کرے گا۔

ہریش ائیر انڈیا کے جانے مانے کارکن ہیں۔ انہوں نے ہم جنس پرستوں کے مفاد کےلیےکئی مہمات میں حصہ لیا ہے۔

ہریش کہتے ہیں ’جب میں اپنی جنسی شناخت کو لے کر الجھا ہوا تھا تب میرے پاس کوئی دروازہ نہیں تھا۔ معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ ہیں جو ہم میں اور دوسروں میں فرق سمجھتے ہیں۔ محبت ہم بھی کرتے ہیں، آپ بھی کرتے ہیں۔ محبت محبت ہوتی ہے۔ جنس الگ ہونے سے محبت تو نہیں بدلتی۔ ’کیو ریڈیو‘ ایک اچھا ذریعے ثابت ہو گا ہم سب کی آوازوں کے لیے۔‘

وہ کہتے ہیں جن باتوں کو ہم جنس پرستوں کے خاندان یا معاشرے میں نہیں کہہ پاتے، ریڈیو پر وہ کھل کر کہہ جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ٹی وی نہیں ہے۔

وہیں ہم جنس فلمساز سریدھر رگاين کا کہنا ہے ’بھارت بے شک اکیسویں صدی میں ہو پر اس کی سوچ آج بھی سولہویں صدی کی ہے۔ کئی بار محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں احترام کی نظروں سے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کیو ریڈیو‘ کے ذریعہ ہمارے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگ جانیں۔ وہ جانیں کہ ہم بھی اس معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہیں جتنا وہ خود ہیں۔‘

انٹرنیٹ پر چلنے والے کیو ریڈیو کا منصوبہ ہے کہ وہ جلد ہی بھارت میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں پروگرام شروع کرے گا۔

اسی بارے میں