بھارتی فوجی چھاؤنی پر حملے، کرنل سمیت دس ہلاک

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جموں خطے میں دو الگ الگ مقامات پر مسلح حملوں کے نتیجے میں فوج کے مطابق ابھی تک ایک اعلیٰ فوجی افسر اور دو شہریوں سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج نے چھاونی میں چھپے تین حملہ آووروں کو چار گھنٹے کی لڑائی کے بعد ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حملے کی ویڈیو

حملے بات چیت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے: منموہن

کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر پولیس تھانہ میں دو شہریوں اور چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد حملہ آوروں نے ایک ٹرک کو اغواء کیا اور ملحقہ ضلع سامبا میں قائم فوج کے ڈویژن ہیڈکوارٹر پر حملہ کردیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سامبا ضلع میں فوجی کیمپ کے اندر دو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

یہ حملہ نیویارک میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی طے شدہ ملاقات سے چند دن قبل ہوا ہے۔ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانہ غلط ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نیویارک میں مجوزہ بات چیت ضرور ہوگی۔

واضح رہے ہیرانگر حملہ بھارتی وزیراعظم کے اُس اعلان کے صرف ایک دن بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے دوبدو ملاقات کریں گے۔

دریں اثنا فوجی ترجمان ایس این اچاریہ نے دعویٰ کیا ہے بدھ کی شب سے ہی لائن آف کنٹرول کے کئی مقامات پر پاکستانی افواج نے بھارتی نشانوں پر فائرنگ کی جس کا جواب دیا گیا۔ اس دوران فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اس حملے پر نیویارک سے اپنے رد عمل میں اس حملے کو وحشیانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان حملوں سے امن کے عمل پر اثر نہیں پڑے گا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جوان ہلاک ہوا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق کارروائی میں دو شدت پسند بھی مارے گئے ہیں لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

تھانے پر حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے جموں رینج کے آئی جی راجیش کمار نے کہا ’جمعرات کی صبح تقریباً پونے سات بجے فوجی وردی میں ملبوس تین سے چار شدت پسندوں نے ہيرا نگر پولیس تھانے پر حملہ کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے تھانے کے باہر موجود سپاہي کو مارا پھر اس کے بعد تھانے میں داخل ہو کر انہوں نے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

راجیش کمار نے بتایا کہ تھانے پر حملے کے بعد شدت پسندوں نے فرار ہوتے ہوئے ایک ٹرک پر قبضہ کیا اور اس کے کلینر کو مار کر اور ڈرائیور کے ساتھ قومی شاہراہ پر سامبا کی طرف بھاگ گئے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسند تھانے کے دروازے پر ایک شہری کو ہلاک کر کے تھانے میں گھسے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

گزشتہ پانچ سال سے جموں و کشمیر میں شدت پسندی میں کمی آئی تھی لیکن اس سال پارلیمان پر حملے کے مجرم افضل گرو کی پھانسي کے بعد ایک مرتبہ پھر حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

ہیرا نگر حملہ بھارتی وزیراعظم کے اُس اعلان کے صرف ایک دن بعد ہوا جس میں انہوں نے تصدیق کی تھی کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے دوبدو ملاقات کریں گے جس کے جواب میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ بات چیت وہیں سے شروع ہوگی جہاں سنہ 1999 میں ان کے گزشتہ دورِ حکومت میں ختم ہوئی تھی۔

ادھر بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم من موہن سنگھ سے نیویارک میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حملے کے بعد جمعرات کو ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’یہ امن کے دشمنوں کی جانب سے اشتعال انگیز اور وحشیانہ کارروائیوں میں سے ایک ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دہشتگردی کے اس عفریت سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں جسے سرحد پار سے شہ مل رہی ہے۔ اس قسم کے حملے ہمیں ڈرا نہیں سکتے اور نہ ہی بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے کے عزم کو متزلزل کر سکتے ہیں۔‘

حکمران جماعت کانگریس کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ یہ حملہ پاکستان اور بھارت کے وزرائےاعظم کی امریکہ میں ہونے والی بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس سے قبل حملے میں ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیكر نے کہا ہے کہ اس حملے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف ’پراکسی‘ جنگ کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ہونے والے حملے اور سرحد پر دو ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کرنے کے واقعات کے بعد وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جب تک کچھ کارروائی نہیں کرتا ہے، اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت پر حملے کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔‘

اسی بارے میں