مظفر نگر: خوف، افواہیں اور دہشت کا ماحول

مظفر نگر
Image caption لوگ آج بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔

اتر پردیش کے مظفرنگر ضلع میں ہندو مسلم فسادات کے بعد سے آہٹ ڈر میں، ڈر افواہ میں اور افواہیں دہشت میں تبدیل ہو رہی ہیں حالات یہ ہیں کہ لوگوں کی ساری ، سا ری رات پہرے داري میں کٹ رہی ہے۔

كاكڑا گاؤں کے کسی کونے میں رات قریب ساڑھے دس بجے شور کی آواز ہوئی اور چند منٹ میں ہی مرد سڑکوں پر اور عورتیں چھتوں پر آ گئیں۔

دیہی بھارت میں کسان دن بھر کام کر کے جلد ہی سو جاتے ہیں. لیکن مظفرنگر میں آج کل گاؤں جاگ رہے ہیں فسادات کے بعد کی دہشت نے لوگوں کا سکون چھین لیا ہے.

جس وقت یہ سب ہوا ہم مظفرنگر کی طرف جانے والی سڑک پر واقع كاكڑا گاؤں میں ہی بیٹھے حالات پر بحث کر رہے تھے۔

اچانک کسی کی آواز آئی اور سب چونک گئے۔ ایک ، دو منٹ کے اندر اندر ہی کچھ نوجوان بھاگے ہوئے آئے۔ پتہ چلا کہ گاؤں کے کسی کونے میں شور ہوا ہے۔جلد ہی گروپ بھیڑ میں تبدیل گیا۔

. کسی نے کہا کہ دو نامعلوم نوجوان بھاگتے ہوئے آئے ہیں اور گاؤں میں داخل ہو گئے ہیں اور ان کو تلاش کیا جا رہا ہے، تو کسی نے کہا وہ کھیت میں گئے ہیں اور کسی نے کسان پر حملہ ہونے کی بات بتائی۔

نہ آہٹ، نہ نشان

گنڈاسے، لاٹھياں اور پھاوڑے لیے لوگ تفتییش کرنے کی بات کرنے لگے لیکن جنگل میں جانے کی ہمت کوئی نہیں کر سکا تقریباً پانچ منٹ بعد گشت پر نکلی ہوئی فوج کی ایک گاڑی رکی۔

انسپکٹر وید پرکاش نے لوگوں سے بات کی اور تفتییش کے لیے اور جوان بلا ئے۔ طے ہوا کہ گاؤں کے جس علاقے میں شور ہوا ہے وہاں جا کر تفتییش کی جائے گی۔

رات کے اندھیرے میں جوان کھیتوں کو كھنگالنے لگے ہم بھی ساتھ ہو لئے۔ لیکن نہ ہی کوئی آہٹ ملی نہ نشان۔

پتہ چلا کہ موہت نام کا نوجوان کھیت پر پانی چلانے گیا تھا جہاں اسے کچھ لوگ دکھائی دیے لوگوں کو دیکھ کر وہ الٹا بھاگا اور گاؤں میں گھستے ہی شور مچا دیا۔

تیرتی ہوئی افواہیں

Image caption ہند اور مسلمان مل کر پہرہ دے رہے ہیں کہ کہیں کوئی سازش ان کے گاؤں کا ماحول خراب نہ کر دے۔

شور کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تھے اور خواتین چھتوں پر آ گئیں تھی چند منٹوں میں ہی طرح - طرح کی افواہیں پھیلنے لگیں.

فوج کے جوان لوگوں کو اعتماد دے کر چلے گئے۔ ان کی موجودگی نے لوگوں میں تحفظ کا احساس ضرور بڑھا لیکن کتنی دیر کے لیے؟ رات کیا، کسان دن میں بھی اکیلے کھیتوں کی طرف جانے سے ڈر رہے ہیں۔

ساٹھ سالہ کسان وریندر سنگھ کہتے ہیں،’ہم گھاس لینے کے لیے جنگل نہیں جا سکتے ہمارے جانور بھوکے مر رہے ہیں۔’ کئی لوگوں کے کھیت سوکھ رہے ہیں‘۔

سات ستمبر کو پنچايت سے واپس جاتے وقت تشدد کا شکار ہوئے كاكڑا گاؤں میں دو لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ تقریبًا دس ہزار کی آبادی والے اس گاؤں کے لوگوں نے گاؤں کے اقلیتی فرقے کے لوگوں پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ لیکن خوف کے ماحول میں اقلیتی فرقے کے لوگ گھروں پر تالے لگا کر چلے گئے ہیں۔

كاكڑا گاؤں کے ایک بزرگ نے کہا، ’ہمارے گاؤں کے لوگوں پر یہاں کے مسلمانوں نےحملہ نہیں کیا تھا جو ہم ان سے بدلہ لیتے، ہم تو ان کے ساتھ مل جُل کر رہنا چاہتے ہیں‘۔

ووٹوں کی سیاست

Image caption پولیس اور سکیورٹی فورسز کی گشت جاری ہے۔

’دہلی پولیس سے ریٹائر ہوئے افسر رندھير سنگھ نے کہا ’ہمیں اقلیتوں کے خالی گھروں کی حفاظت بھی کرنی پڑ رہی ہے تاکہ کسی پر کوئی جھوٹا الزام نہ لگے‘۔

وریندر سنگھ کا خیال ہے کہ ووٹوں کی سیاست کی وجہ سے ہی یہ سب ہو رہا ہے۔ حالانکہ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ مذہب کی بنیاد پر ہی ووٹنگ کریں گے۔ گاؤں کے زیادہ تر کسانوں کا یہی خیال ہے۔

كاكڑا گاؤں سے نقل مکانی کرکے گئے ایک مسلم خاندان کے گھر میں رکھے ہوئے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی نقدی اور زیورات بھی گاؤں والوں نے محفوظ کر کے واپس دیے ہیں۔ شاہر کیمپ میں رہ رہے کئی لوگوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔

یہاں کے کسانوں کو لگتا ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمان مظفرنگر میں گھس آئے ہیں اور وہ آٹومیٹك ہتھیاروں سے لیس ہیں۔تاہم کسی کے پاس اس کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔ لیکن کئی لوگوں نے کہا کہ وہ اس طرح کی افواہوں پر یقین کرتے ہیں اور یہی افواہیں خوف کا سبب بن رہی ہیں۔

ہم كاكڑا سے مظففرنگر کی جانب واپس آئے تو راستے میں تاولي گاؤں پڑا۔ اس مسلم اکثریتی گاؤں میں بھی لوگ رات کے قریب ساڑھے گیارہ بجے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ٹارچ لئے سڑکوں پر گشت لگا رہے تھے۔

’کہیں سازش نہ ہو جائے‘

Image caption زرا سی آہٹ خوف میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ایک بزرگ نے بتایا، ’یہاں تمام مذاہب کے لوگ محبت سے رہتے ہیں۔

ہمیں ڈر ہے کہ کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی سازش نہ کر جائے اور گاؤں میں ماحول نہ خراب ہو جائے اس لئے ہم مل جل كر پہرہ دے رہے ہیں۔

پہرےداري میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ بزرگ نے کہا کہ ہم اذان کے وقت تک جاگتے رہیں گے اور اس کے بعد سو جائیں گے۔

انہوں نے بتایا، ’ارد گرد کے گاؤں میں کئی بڑی وارداتوں ہوئی ہیں۔ سارے گاؤں خوف میں ہیں طرح - طرح کی خبروں نے خوف کو اور بڑھا دیا ہے سب لوگ خوفزدہ ہیں کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ہم سے جتنا ہو سکتا ہے اتنا احتیاط کام لے رہے ہیں۔ گاؤں میں ہندو کم ہیں، اگر انہیں کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا؟ ‘

. كاكڑا اور تاولي گاؤں کے ارد گرد ہی ایک مسلم اکثریتی گاؤں ہے جبکہ دوسرا ہندو اکثریت والا گاؤں ہے دونوں ہی گاؤں کے لوگ فکر مند ہیں اور ڈرے ہوئے ہیں بس فرق اتنا ہی ہے کہ كاكڑا کے مسلمان اپنے گھر چھوڑ گئے ہیں جبکہ تاولي کے ہندو خاندان گاؤں میں ہی رہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں