’نواز سے ملوں گا مگر زیادہ امید نہ رکھیں‘

Image caption ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کا خواہاں ہوں: منموہن سنگھ

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ خطے کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کی وجہ پاکستان ہے جو ’اب بھی خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے‘۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ وہ میاں نواز شریف سے ملاقات کر تو لیں گے مگر اس ملاقات سے بہت زیادہ امید نہیں لگانی چاہیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا بازار بہت سرگرم ہے جس کی وجہ سے خطہ مشکلات کا شکار ہے۔

منموہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے صدر اوباما کو بتایا ہے کہ خطے میں موجود مشکلات کی وجہ پاکستان ہے جو خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم اور بھارتی وزیر اعظم دونوں امریکہ کے شہر نیو یارک میں موجود ہیں جہاں وہ اتوار کو ملاقات کر رہے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اس ملاقات کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات ضرور ہو گی کیونکہ اگر ملاقات نہ ہوئی تو شکایات کیسے ایک دوسرے تک پہنچائی جائیں گی۔

اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے نیویارک میں ملاقات کے منتظر ہیں۔

مگر اس ساری صورتحال میں تبدیلی چھبیس اگست کے بعد سے آئی جب بھارت کے زیرانتظام جموں کشمیر کے جموں خطے میں دو الگ الگ مقامات پر مسلح حملوں کے نتیجے میں ایک فوجی افسر اور دو شہریوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں

اس سال مئی میں انتخابات میں کامیابی کے بعد سے نواز شریف اور ان کی جماعت نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا کئی مرتبہ اظہار کیا ہے۔

Image caption میاں نواز شریف اور ان کی جماعت نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا کئی مرتبہ اظہار کیا ہے

تاہم پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے میں واقع لائن آف کنٹرول کے آر پار فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے امکانات معدوم ہو گئے تھے۔

گزشتہ ماہ کی پانچ تاریخ کے بعد سے اب تک لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے میں چھ پاکستانی اور پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں.

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد معطل ہو گیا تھا۔ان حملوں میں166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں