مودی کی منفی سیاست

Image caption مودی سونیا گاندھی کے اطالوی نژاد ہونے پراکثر نسلی اور شخصی طنز کیا کرتے تھے

بـھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے اپنی انتحابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس مرحلے پر ان کی توجہ فی الحال ان ریاستوں پر مرکوز ہے جہاں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ ایک ریاستی وزیراعلیٰ سے قومی رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

اتوار کو وہ دہلی میں اپنی پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔

ان کی ریلی کے لیے ایک ہائی ٹیک سٹیج بنایا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ تیس سے زیادہ ملکوں کے سفارتکار بھی مودی کی اس ریلی میں مشاہدین کے طور پر شریک ہوں گے۔ ان کی اس ریلی مین میڈیا کی گہری دلچسپی ہے۔

نریندر مودی نے اب تک کئی بڑی بڑی ریلیوں سے خطاب کیا ہے۔ ان کے خطاب کا محور ہمیشہ منفی رہا ہے۔ وہ پالیسیوں اور پروگراموں پر بھی اگر نکتہ چینی کرتے ہین تو ان کے نشانے پر کوئی فرد ہوتا ہے پالیسیاں نہیں۔

مودی پالیسی سے زیادہ انفرادی رہنما پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں وہ اپنی ہر تقریر میں گاندھی فیملی کو نشانہ بنایا کرتے تھے۔ وہ سونیا گاندھی کے اطالوی نژاد ہونے پراکثر نسلی اور شخصی طنز کیا کرتے تھے۔

کانگریس پارٹی آزادی کے بعد کے بیشتر سال اقتدار میں رہی ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی نہ صرف یہ کہ ایک بہتر متبادل کی خواہاں رہی ہے بلکہ ابتدا سے ہی بہت سے ایسے لوگ رہے ہیں جو کانگریس کے نظریات سے متفق نہیں تھے۔

اختلاف جمہوریت کا بنیادی پہلو ہے لیکن کانگریس سے مودی کی نفرت جمہوریت کی حدوں کو پار کر گئی ہے۔ وہ انتخابات میں کانگریس اور اس کے سیاسی نظریات کو شکست دینے کی بات نہیں کرتے وہ کانگریس کو ہی ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

مودی اپنے حامیوں سے ایک ایسے بھارت کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں جس میں کانگریس کا وجود نہیں ہوگا۔ کانگریس کے وجود کو ہی ختم کرنا ان کا سب سے بڑا نعرہ ہے۔

یہ ایک خطرناک سیاسی روش ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے پروگراموں اور پالیسیوں کی بنیاد پر اقتدار میں آنے کے لیے انتخاب لڑتی ہیں کسی سیاسی جماعت کو تباہ کرنے کے لیے نہیں۔

آنے والے دنوں میں مودی یقیناً اپنے پروگرام اور پالیسیاں عوام کے سامنے پیش کریں گے لیکن ابھی تک ان کی روش منفی رہی ہے۔ منفی سیاست سے بہت زیادہ دنوں تک عوام کی حمایت نہیں حاصل کی جا سکتی۔

جمہوری نظام میں نظریات کو شکست دینے کی باتیں ہوتی ہیں سیاسی جماعتیں تباہ کرنے کی نہیں۔ بھارت کی انتخابی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہے حب کوئی جماعت اپنی حریف جماعت کے وجود کو ہی ختم کرنے کے نعرے کے ساتھ مہم میں اتری ہے۔

نریندر مودی کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیاسی جماعتیں کسی کے ختم کرنے سے نہیں ختم ہوتی، وہ اپنے فرسودہ اور منفی نظریات سے فنا ہوتی ہیں۔ مودی کو مقبولیت ان کے ترقیاتی کاموں اور ان کی انتظامی صلاحت کے سبب مل رہی ہے۔ ان کی منفی سیاست ہی ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

مودی اپنے انتظامی معاملات میں بھلے ہی ایک باصلاحیت منتظم رہے ہوں لیکن سیاست میں خواہ وہ ان کی اپنی پارٹی رہی ہو یا حریف جماعتیں ان کی روش ہمییشہ منفی رہی ہے۔

یہ دور نفرتوں کی سیاست کا نہیں مثبت سیاست کا ہے۔ جماعتیں اپنی کارکاردگی، رہنماؤں کی شخصیت اور پروگراموں کی بنیاد پر جانچی پرکھی جائیں گی۔ مودی کو کامیاب ہونے کے لیے جمہوریت کا یہ گر بہت جلد سیکھنا ہوگا ورنہ وہ خود اپنی منفی سیاست کی نذر ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں