دیہاتی عورت ہونا برا کیوں ہے؟

دیہاتی عورت ہونا برا کیوں ہے ؟

Image caption بھارت میں پچاس کروڑ خواتین دیہات میں رہتی ہیں

اتوار کو نریندر مودی نے میاں نواز شریف کی بھی مزاج پرسی کی! بظاہر نواز شریف نے ہندوستانی اور پاکستانی صحافیوں کی موجودگی میں کوئی پرانا قصہ سنایا جس کا ایک پاکستانی صحافی نے یہ مطلب نکالا کہ شاید وہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کو ’دیہاتی عورت‘ کہہ رہے ہیں۔

یہ تو معلوم نہیں کہ دراصل ہوا کیا تھا لیکن دلی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے نواز شریف سے پوچھا کہ ’ہمارے وزیراعظم کی توہین کرنے کی آپ کی جرات کیسے ہوئی۔۔۔؟ اسی تقریر میں انہوں نے من موہن سنگھ کی ’پگڑی اچھالنے‘ پر راہل گاندھی کی بھی خبر لی۔

مودی صاحب، کہیں آپ کے کہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ من موہن سنگھ کی توہین کرنے کا حق صرف آپ کو حاصل ہے!

اور ویسے بھی ’دیہاتی عورت‘ ہونا توہین آمیز کیوں ہے؟

انڈیا کی 68 فیصد سے زیادہ آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ 2011 کے مردم شماری کے مطابق بھارت کی کل آبادی ایک ارب 21 کروڑ ہے۔ سادہ حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی تقریباً 42 کروڑ خواتین ’دیہاتی عورتوں‘ کے زمرے میں آتی ہیں، وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں اور ’شہری‘ ہونے کے خواب نہیں دیکھتیں، ان کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہوگا کہ توہین من موہن سنگھ کی ہو رہی ہے یا ان کی!

انڈین شیروں کے سپیچ رائٹر !

Image caption مودی نے اپنی تقریر میں من موہن سنگھ اور راہول گاندھی دونوں کی ہی خبر لے ڈالی

نریندر مودی کے تعارف کی تو اب لگتا ہے کہ ضرورت نہیں، بی جے پی کا دعوی ہے کہ وہ ’بھارت کے شیر‘ ہیں اور مودی اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انڈیا میں شیروں کی نسل تیزی سے ناپید ہو رہی ہے اور اس کے شکار پر سخت پابندی عائد ہے۔

شاید اسی لیے نریندر مودی کو چیلنج کرنے کوئی سامنے نہیں آ رہا کیونکہ یہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور لالو پرساد یادو کی مثال تو آپ نے دیکھ ہی لی ہوگی، انڈیا میں جو لوگ قانون توڑتے ہیں وہ جیل جاتے ہیں، چاہے اس کام میں 17 سال ہی کیوں نہ لگ جائیں!

مسلسل حملوں کے جواب میں توقع یہ تھی کہ کم سے کم کانگریس کے شیر راہل گاندھی، تھوڑے ’شہری‘ انداز میں ہی سہی، نریندر مودی کی دھاڑ کا جواب دیں گے اور انہوں نے کسی کو مایوس نہیں کیا، وہ بھی کچھ اس انداز میں دھاڑے کہ پورا ملک دہل گیا۔

بس افسوس کہ نشانہ ذرا غلط ہوگیا!

Image caption راہول گاندھی نے مودی کی بجائے اپنے ہی وزیراعظم کو نشانہ بنا ڈالا

نریندر مودی پر حملہ کرنے کے بجائے انہوں نے تیر اپنے ہی وزیراعظم پر چلادیا، کہا کہ پی ایم کا منظور کردہ آرڈیننس بالکل بکواس ہے اور اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے!

اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یا تو راہل گاندھی کو یہ غلط فہمی رہی کہ نریندر مودی وزیر اعظم بن چکے ہیں (جو کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ ملک میں بی جے پی اور خود مودی سمیت بڑی تعداد میں لوگ یہی سمجھ رہے ہیں!) یا پھر مسٹر مودی اور مسٹر گاندھی کا سپیچ رائٹر ایک ہی ہے!

برطانوی کبوتر ہندی نہیں جانتے!

لندن میں انڈیا کا ہائی کمیشن جاسوسی کے خطرے کی وجہ سے انتہائی خفیہ مراسلوں کے لیے کمپیوٹروں کی بجائے اب ٹائپ رائٹر استعمال کر رہا ہے!

اور جب بھی کوئی راز کی بات کرنی ہوتی ہے تو اعلیٰ سفارتی اہلکار ہائی کمیشن کے سبزہ زار کا رخ کرتے ہیں کہ کہیں غیر ملکی جاسوس خفیہ آلات سے ان کی باتیں نہ سن لیں۔

اور مراسلوں کو دلی بھیجنے کا کیا انتظام ہے؟ ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر نظر رکھیے گا، کبوتر خریدنے کے لیے جلدی ہی ٹینڈر جاری کیا جا سکتا ہے! اور ہاں، برطانوی کبوتر زیادہ بہتر رہیں گے کیونکہ وہ ہندی نہیں جانتے!