’30 سے 40 جنگجوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے‘

Image caption جنرل گرمت نے کہا کہ نو روز سے جاری آپریشن میں فوج نے دس سے بارہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے

پاکستان نے بھارتی فوج کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے بڑی تعداد میں در اندازی ہوئی ہے اور بھارتی فوج پچھلے نو دنوں سے ان جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ’بھارتی فوج کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور سراسر جھوٹ ہیں۔ اس قسم کا کوئی واقعہ (دراندازی) نہیں ہوا‘۔

پاک بھارت وزرائے اعظم ایل او سی پر فائر بندی پر متفق

’بات وہیں سے شروع کریں گے جہاں 1999 میں چھوڑی تھی‘

’پاکستان بھارت کے خلاف دہشت گردی کا مرکز نہ بنے‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لیفٹیننٹ جنرل گرمت سنگھ نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی فوج کو حالیہ برسوں میں دراندازوں کے سب سے بڑے گروہ سے مقابلہ ہے۔

’تیس سے چالیس جنگجوؤں نے لائن آف کنٹرول پار کر کے کیرن سیکٹر میں گھنے جنگلات میں پناہ لے رکھی ہے۔ بھارتی فوج گزشتہ نو دنوں سے ان کے خلاف آپریشن کر رہی ہے‘۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جنرل گرمت نے کہا کہ نو روز سے جاری آپریشن میں فوج نے دس سے بارہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

’منگل کو دس مزید جنگجوؤں نے دراندازی کی کوشش کی تاکہ اپنے ساتھیوں کی مدد کر سکیں جو اس وقت لائن آف کنٹرول سے دو سو سے تین سو میٹر اندر موجود ہیں‘۔

لیفٹیننٹ جنرل گرمت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم آپریشن میں جلد بازی نہیں کر رہے کیونکہ جلد بازی کا مطلب ہے فوجیوں کی جانیں خطرے میں ڈالنا‘۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جنرل گرمت نے کہا ’بھارتی فوجیوں کا پہلا سامنا ان جنگجوؤں سے چوبیس ستمبر کو شالہ بھٹا کے خالی گاؤں میں ہوا‘۔

انھوں نے بھارتی میڈیا میں آنے والی خبروں کی تردید کی کہ پاکستانی فوج نے گاؤں یا بھارتی فوجی چوکی پر قبضہ کر لیا ہے۔ ’ہمارے علاقے پر قبضے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جنگجوؤں کا بھارتی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں بکواس ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس اس بار کئی پوائنٹس سے دراندازی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی جنرل کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے مطابق یہ آپریشن اس وقت جاری تھا جب پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم نیو یارک میں ملاقات کر رہے تھے۔

اس ملاقات میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔

اس ملاقات کے بعد بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس دراندازی کا ذکر نہیں کیا تھا۔

انھوں نے اس ملاقات کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں یہ طے پایا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او آپس) میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

اسی بارے میں