لالو پرساد کو پانچ سال قید کی سزا

Image caption لالو پرساد یادو بہار کے وزیر اعلی کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد مرکز میں ریلویز کے وزیر ہوئے تھے

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کی ایک ذیلی عدالت نے بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو بد عنوانی کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا دی ہے۔

عدالت نے ان پر پچیس لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

سی بی آئی کے وکیل بی ایم پی سنگھ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ لالو یادو اور اس معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے دیگر سیاسی رہنماؤں کو زیادہ سے زیادہ یعنی سات برس کی سزا دی جائیں تاکہ لوگوں کو ایک سخت پیغام دیا جا سکے۔

لیکن رانچی کی ذیلی عدالت کے جج نے لالو کی عمر اور حالیہ برسوں میں ان کے صاف کردار کے پیش نظر صرف پانچ برس کی قید کی سزا دی۔

چارے کا گھپلہ : لالو پرساد جیل میں

چارہ سکینڈل: لالو پرساد پر فردِ جرم عائد

اس سزا کے بعد لالو یادو کی پارلیمان کی رکنیت ختم ہو گئی ہے اور وہ انتخاب لڑنے کے بھی اہل نہیں رہے۔

لالو کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

واضح رہے کہ عدالت اس معاملے میں انھیں گذشتہ پیر کو قصوروار قراد دے چکی ہے۔

بہار کے مویشی پروری کے محمکے میں کروڑوں روپے کے گھپلے کے اس معاملے میں رانچی کی ذیلی عدالت نے پیر کو ان آٹھ قصورواروں کو سزائیں بھی سنا دی تھیں جن کی سزا تین برس تک تھی۔

ان کے ساتھ ریاست کے ایک دوسرے سابق وزیر اعلی جگن ناتھ مشرا کو چار سال اور 30 سے زیادہ اہلکاروں کی سزاؤں کا فیصلہ بھی کیا گيا۔

یہ سزائیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انہیں جیل میں سنائی گئي۔

لالو پرساد اس وقت رانچی کی ایک جیل میں ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق ان کی پارلیمان کی رکنیت اب ختم ہو جائے گی اور اگر وہ ضمانت پر رہا بھی ہو گئے تو بھی وہ آئندہ چھ برس تک انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہوں گے۔

بھارت کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ان سیاست دانوں کی پارلمیان کی رکنیت اور انتخاب لڑنے کے حق کا اس وقت تک تحفظ کیا جا سکے جب تک انھیں کسی مجرمانہ معاملے میں سپریم کورٹ سے سزا نہیں ہوتی۔

حکومت نے شدید تنقیش اور سیاسی تنازعات کے بعد بدھ کو یہ آرڈیننیس واپس لے لیا ہے۔

اب کسی ذیلی عدالت سے سزایاب ہوتے ہی متعلقہ سیاسی رہنما کی پارلیمان یا اسمبلی کی رکنیت ختم ہو جائے گی اور ان کا انتخاب لڑنے کا حق بھی ختم ہو جائے گا۔

اس سے قبل لالو پرساد اور 44 دیگر افراد پر چائیباسا خزانے سے 90 کی دہائی میں 37.7 کروڑ روپے نکالنے کا الزام تھا۔

Image caption لالو پرساد یادو کو وزیر اعلی کے عہدے سے چارے گھپلے کی وجہ سے ہی سبکدوش ہونا پڑا تھا

واضح رہے کہ 17 سال قبل چائیباسا غیر منقسم بہار کا حصہ تھا۔ چارا گھپلے میں خصوصی عدالتیں 53 میں سے 44 مقدمات میں پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہیں۔

بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا، سابق وزیر ودیا ساگر نشاد، آر کے رانا اوردھرو بھگت بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

رانا اور بھگت کو مئی میں ایک دوسرے معاملے میں پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

چائباسا خزانے سے مبینہ فرضی بل دے کر 37.7 کروڑ روپے نکالنے کا یہ معاملہ جب سامنے آیا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے دھرو بھگت اور جگدیش شرما کی رکنیت والی اسمبلی کمیٹی کے ذریعے اس کی جانچ کرانے کے احکامات دیے تھے۔

اس معاملے میں شیوانند تیواری، سریو رائے، راجیو رنجن سنگھ اور روی شنکر پرساد نے پٹنہ ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی۔

پٹنہ ہائی کورٹ نے 11 مارچ سنہ 1996 کو 950 کروڑ روپے کے مبینہ چارہ گھپلے کے معاملات کی تفتیش سی بی آئی کو سونپنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں