ایک رات دہلی کے بےگھر افراد کے ساتھ

Image caption پوجا کی چودہ سال کی عمر میں ایک ادھیڑ عمر شخص سے شادی کرا دی گئی

پوجا کو بیس سال پہلے دو برس کی عمر میں اپنی ماں اور چھ بہن بھائیوں کے ساتھ غربت سے نکلنے اور مار پیٹ کرنے والے باپ سے بچنے کے لیے ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ سے دہلی آنا پڑا۔

اس وقت سے شہر کے فٹ پاتھ ان کا مسکن ہے۔ وہ دن میں کام ڈھونڈنے کے لیے گھومتی پھرتی ہے، عوامی غسل خانوں میں نہاتی ہیں اور قریب واقع ایک پیٹرول پمپ سے پانی پیتی ہے۔

پوجا کی ماں اور ان کے پولیو زدہ بھائی اپنے خرچہ پورا کرنے کے کی لیے بھیک مانگتے ہیں جبکہ ان کا ایک دوسرا بھائی معمولی جرم کی سزا میں جیل کاٹ رہا ہے۔

ان کے معذور بھائی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھیک مانگتے ہیں اس لیے اس کی وہیل چیئر پلاسٹک سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے جس میں پورے خاندان کی چھوٹی موٹی چیزیں، کچھ کپڑے ، بیسکٹ، پانی کی ایک بوتل وغیرہ پڑی ہوتی ہیں۔

پُرامید

دہلی کی گلیوں میں زندگی گزارنے میں کافی خطرات ہوتے ہیں۔

پوجا کا خاندان جو معمولی رقم بھیک مانگ کر جمع کرتا ہے وہ اسے ایک مقامی دکاندار کے، جس پر وہ اعتماد کرتے ہیں، پاس رکھ دیتے ہیں۔

پوجا کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں ایک آدمی نے ان کے گردن پر چاقو رکھ کر ان کا موبائل فون چھین لیا۔

بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سرکار جو بے گھر افراد کی تعداد 20 لاکھ بتاتی ہے، بالکل گمراہ کن ہے۔ان تنظیموں کا موقف ہے کہ بے گھر فراد کی تعداد سرکاری اعداد سے پندرہ گنّا زیادہ ہے۔

میں اس گروپ میں شامل تھیں جس کو ایک غیر سرکاری تنظیم نے بے گھر افراد کے ساتھ رات گزار کر ان کی کہانیاں سننے کے لیے دعوت دی تھی۔جب ہم وہاں گئے تو میری ملاقات پوجا سے ہوئی۔اکتوبر کی یہ خوشگوار رات گزارنے کے لیے وہاں 25 طلبا آئے۔

پوجا نے زرد رنگ کی شلوار قمیض کے ساتھ میچنگ چوڑیاں پہنی ہیں اور ان کے بال بندھے ہوئے ہیں۔

وہ گفتگو میں تیز اور متحرک ہے۔ بہت کچھ کھونے کے باوجود وہ پھر بھی مستقبل کے بارے میں پُرامید ہے۔

ان کے تین بہن بھائی بیماریوں کی وجہ سے مر گئے ہیں۔ انھیں یہ بیماریاں کھلے آسمان تلے رہتے ہوئے لگی تھیں۔ پوجا سمیت ان کے چار بہن بھائیوں کو ایک غیر سکاری تنظیم نے اٹھا کر سکول میں داخل کرایا اور رہنے کے لیے ایک پناہ گاہ میں جگہ دی۔

Image caption میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں۔ یہ سب سے اچھا کام ہے جو میں نے کبھی کیا ہے: پوجا

لیکن پھر ایک ادھیڑ عمر شخص نے پوجا کو گلی میں دیکھ کر ان کے ساتھ بیاہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔اس شخص کا اپنا گھر تھا اس لیے پوجا کی ماں ان کی شادی کرانے کے لیے مان گئی۔ اس وقت پوجا کی عمر چودہ سال تھی۔

ہسپتال میں دائی کا کام کیا

پوجا اس شخص کے پاس چند سال رہی اور ان کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے۔پھر ان کا شوہر مر گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ان کے سسرالیوں نے انھیں جلد ہی واپس گلیوں میں بھیج دیا جو ان کے سسرال کے مطابق ان کی حقیقی جگہ تھی۔‘

پوجا نے اپنے بچوں کو ایک شلٹر یا پناہ گاہ میں ڈال دیا، ’میں نہیں چاہتی کہ میرے بچوں کی پرورش بھی گلیوں میں ہو‘۔ وہ خود کام کرنے کے لیے نکل پڑی۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے اچھے دن تب شروع ہو گئے جب انھوں نے ایک نجی ہسپتال میں ایک غیرتربیت یافتہ دائی کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ وہاں وہ تین ہزار روپے ماہانہ کمانے لگی۔

وہ فخر سے کہتی ہیں’میں ڈاکٹر بن گئی۔‘ میں نے بچے پیدا کروائے اور اسقاط حمل کرائے۔

لیکن ایک سال بعد وہ بیمار ہو گئی، اس کی نوکری چلی گئی اور وہ دوبارہ گلیوں میں آ گئی۔

اس وقت سے وہ نوکری کی تلاش میں گلیوں میں گھومتی ہے اور پناہ گاہوں کے دروازوں پر دستک دیتی ہے۔

پوجا کہتی ہیں’میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں۔ یہ سب سے اچھا کام ہے جو میں نے کبھی کیا ہے۔‘

’دن ہونے والا ہے، میں جانے کی تیاری کرتی ہوں‘۔میں کہتی ہوں مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ کو آرام کرنے نہیں دیا۔

وہ کہتی ہیں’بات کرکے میں اچھا محسوس کرتی ہوں اور بہرحال بےگھر نوجوان افراد رات کو نہیں سوتے۔‘

اسی بارے میں