تیلنگانہ کی مخالفت میں سینیئر وزیر مستعفی

Image caption تیلنگانہ کے قیام کے خلاف آندھرا پردیش میں ماضی میں بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں

بھارت میں مرکزی کابینہ کے رکن سینیئر وفاقی وزیر پلّم راجو نے جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی کابینہ کی جانب سے تیلنگانہ کو آندھرا پردیش سے علیحدہ کر کے الگ ریاست بنانے کی منظوری کے خلاف آندھرا پردیش کے 13 اضلاع میں دو روزہ ہڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پلّم راجو ان دونوں مرکزی وزرا میں سے ایک ہیں جنہوں نے جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے علاوہ وزیرِ سیاحت چرن جیوی نے بھی اس فیصلے کے خلاف مستعفی ہونے کی بات کی تھی۔

پلم راجو کا تعلق ریاست کے اس حصے سے ہے جسے سیماندھرا کا نام دیا جائے گا۔ یہ ریاست آندھرا پردیش کے ان باقی ماندہ علاقوں پر محیط ہوگی جو تیلنگانہ کے الگ ہونے کے بعد بچ جائیں گے۔

جمعہ کو اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے پلم راجو نے کہا کہ کابینہ نے تیلنگانہ کی منظوری دینے میں جلدبازی سے کام لیا ہے اور خطے کے لوگوں کی خوہشات اور تحفظات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ میں ان تحفظات کو مناسب انداز میں کابینہ کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔ میں نے گزشتہ شام ہی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی، لیکن وزیراعظم نے مجھے مشورہ دیا کہ میں جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہ کروں۔ میں نے رات بھر اس بارے میں سوچا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے مستعفی ہوجانا چاہیے۔‘

اس سے پہلے جمعرات کی شام کابینہ کے تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد مرکزی وزیر سشیل کمار شندے نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ ’آندھرا پردیش سے الگ تیلنگانہ ریاست کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے نئی ریاست کے قیام کے لیے وزراء کا ایک گروپ بنانے کی بھی منظوری دی ہے جو ریاست کی تقسیم کے طریقوں کے بارے میں غور کرے گا۔

بھارتی کابینہ کے اس فیصلے کے خلاف آندھرا پردیش کی حکومت کے حامی ملازمین نے لوک سبھا کے مقامی ارکان کی رہائش گاہوں کے باہر مظاہرے بھی کیے ہیں۔

ریاست کے نان گزیٹڈ افسران کی ایسوسی ایشن کے صدر پی اشوک بابو نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ دونوں علاقوں کے عوامی نمائندے ریاست کی تقسیم کو روک نہیں پائے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آندھرا پردیش میں کانگریس کے رہنماؤں نے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ ریاستی اسمبلی میں اگر تیلنگانہ کے قیام کی قرارداد لائی گئی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے۔

تیلنگانہ کی تشکیل کی راہ میں کابینہ کی منظوری پہلا باضابطہ قدم ہے۔ تیلنگانہ ملک کی انتیسویں ریاست ہوگی اور کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے تیس جولائی کو وفاقی حکومت سے یہ سفارش کی تھی کہ علیحدہ ریاست کا پینتالیس سال پرانا مطالبہ تسلیم کر لیا جانا چاہیے۔

یہ ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کے آس پاس والے دس اضلاع پر مبنی ہوگی لیکن حیدرآباد آئندہ دس برس کے لیے دونوں نئی ریاستوں تیلنگانہ اور سیماندھرا کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔

اس وقت ریاست آندھرا پردیش میں کانگریس کی حکومت ہے لیکن اس کے اندر بھی سخت اختلافات ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ کئی ریاستی وزرا بھی مستعفی ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ریاست تیلنگانہ کے قیام کا مطالبہ سنہ 1956 میں اس وقت سے کیا جا رہا ہے جبکہ تیلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر ریاست آندھراپردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔

اسی بارے میں