راہل گاندھی کا سیاسی کرتب

Image caption راہل گاندھی نے حال ہی میں ایک آرڈننس پر حکومت کی کھل کر مخالفت کی تھی

بھارت کی سیاست میں جرائم کے عنصر کی آلائش ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ عوامی نمائندگی کا جو قانون ہے اس میں اگرچہ مجرمانہ معالات میں سزایافتہ افراد کو انتخاب کے لیے نا اہل قرار دینے کی شق شامل ہے لیکن اس میں پیچیدگی صرف اس پہلو سے پیدا ہو رہی تھی کہ جب تک کسی شخص کو سپریم کورٹ سے حتمی سزا نہیں ہو جاتی تب تک وہ شخص سزایاب نہیں مانا جائے گا۔

بھارت کا نظام عدل دنیا کا سب سے پیچدہ اور سست رفتار عمل ہے۔ ذیلی عدالت سے کسی مقدمے کے سپریم کورٹ تک کے سفر میں اکثر کئی عشرے لگ جاتے ہیں ۔انصاف کا عمل اتنا طویل اور فرسودہ ہے کہ مجرموں کی اکثریت جرم کے ارتکاب کے بعد انصاف کے شکنجے سے بآ سانی نکل جاتی ہے ۔

قانونی نظام کی اس فرسودگی اور سیاست میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کے سبب ملک کی پارلمینٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں سینکڑوں ایسے ارکان موجود ہیں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ارکان ہیں جن کے خلاف ریپ ، قتل اور اغوا جیسے سنگین جرائم کے معاملات درج ہیں ۔

گزشتہ دس جولائی کو سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں یہ حکم دیا کہ اب ذیلی عدالت سے سزایاب ہوتے ہی سزا یافتہ شخص انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہو گا اور اگر سزایافتہ شخص پارلیمنٹ یا اسمبلی کا رکن ہے تو اس کی رکنیت ختم ہو جائے گی۔ ‏عدالت عظمی کے اس فیصلے سے عوام میں خوشی کی لہر دزڑ گئی۔لیکن سیاسی جماعتوں کے لیے مشکلیں پیدہ ہو گئیں ۔ کیونکہ ہر جماعت میں کئی رہنماؤں کو مجرمانہ مقدمات کا سامنا ہے ۔حکمراں جماعت اور خزب اختلاف سبھی سر جوڑ کر بیٹھ گئیں ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے بہت سرعت کے ساتھ ایک بل تیار کیاگیا۔ لیکن اچانک بی جے پی کو یہ محسوس ہوا کہ اگر یہ قانون آ گیا تو اس سے پارٹی کے سخت دشمن لالو یادوبچ سکتے ہیں ۔ اس نے اس بل کے کچھ پہلوؤں کی مخالفت کر دی اور بل کو قائمہ کمیٹی میں بھیجنا پڑا ۔

حکمراں کانگریس نے بھی لالو کو بچانے کی کوشش میں عوامی موڈ کا اندازہ لگائے بغیر ایک آرڈیننس کی منظوری دے دی۔ اس قدم سے حکومت کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ بد عنوان سیاستدانوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جماعتیں جو اس آرڈینینس کی اندر ہی اندر حمایت کر رہی تھیں شدید عوامی مخالفت کے پیش نظراچانک اس کی مخالفت کرنے لگیں ۔

یہ تھا وہ پس منظر جس میں اچانک راہل گاندھی ایک پریس کانفرنس میں نمودار ہوئے اور خود اپنی ہی حکومت کے آرڈینینس کو ردی کا ٹکڑا قرار دیا ۔

حکومت نے یہ آرڈیننس ہی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا بلکہ بل بھی واپس لے لیا ہے ۔ اگر یہ آرڈیننس موجود ہوتا تو لالو یادو کی رکنیت ختم نہ ہوتی اور وہ انتخاب بھی لڑ نے کے اہل ہوتے ۔اور ہائی کورٹ میں اپنا دفاع کرتے ۔

لالو کی ہی طرح ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، امیت شاہ ، جیہ للتا، کانی موڑی، دیا ندھی مارن ، کلیان سنگھ ، مایاوتی اور نہ جانے مزید کتنے سیاست دانوں کو مجرمانہ مقدمات کا سامنا ہے ۔

سیاسی رہنماؤوں کے ادارے کو جو تحفظ حاصل تھا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ختم ہو گیا ہے ۔ اب سیاسی رہنماؤوں کو مقدمات میں پوری طرح ذیلی عدالتوں کے رحم وکرم پر رہنا ہو گا۔ ذیلی عدالتوں کے بیشتر فیصلے ہائی کورٹ تک پہنجتے پہنچتے تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن تب تک جو نقصان ہونا ہوگا وہ ہو چکا ہوگا۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے ملک کے سیاست دانوں کی غالب اکثریت کا جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

بھارت کی سیاست کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں اکثر سیاسی رہناؤں کے خلاف حکومتیں تحریک اور مظاہروں کے درمیان مقدمات درج کر لیتی ہیں ۔ بہت سے رہنما ایسے ہیں جن کے خلاف اس نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہیں ۔ انہیں اب سیاسی نا اہلی کے خدشات کا سامنا ہے ۔

سیاسی جماعتوں بالخصوص حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے انتہائی غیر ذمے دارانہ طریقے سے ملک کے سیاسی ادارے کو بہت شدید نقصان پہنچایا ہے ۔

اسی بارے میں