تیلنگانہ کے قیام کے خلاف احتجاج میں تیزی

Image caption وجے واڑا میں مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات ہوئے ہیں

بھارت میں نئی ریاست تیلنگانہ کے قیام کے لیے مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد آندھرا پردیش میں احتجاج تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ہندوستانی ریاست آندھرا پردیش کے بعض علاقوں میں زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر محکمۂ بجلی کے ہزاروں ملازمین ہڑتال پر چلے گئے ہيں۔

آندھرا پردیش کے کئی شہروں سے مظاہرے اور تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جب کہ سیماندھرا کے 13 اضلاع میں تقریباً 40 ہزار بجلی کے ملازمین کی ہڑتال سے ان اضلاع میں بجلی کی فراہمی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے سات میں سے چھ پاور پلانٹ بند ہیں جس کے سبب جنوبی گرڈ کے بند ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ حیدرآباد میں بھی صبح سے بجلی نہیں ہے۔

اس ہڑتال کے پیش نظر بعض ریل گاڑیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے جب کہ کئی تاخیر سے چل رہی ہیں۔

دریں اثنا نئی ریاست کے خلاف وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی کی غیر معینہ بھوک ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔

دوسری جانب ٹی ڈی پی کے صدر چندر بابو نائیڈو نے منگل سے دہلی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔

نائیڈو نے بھی ریاست کی تقسیم کو عصبیت کا شکار قرار دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست کی تقسیم کر کے کانگریس سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Image caption آندھرا کے کئی اضلاع سے تشدد ، آتش زنی اور مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں

تیلنگانہ نامی بھارت کی 29 ویں ریاست کے قیام کے خلاف اور اس کی حمایت میں حالیہ دنوں میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

تقسیم کی تجویز کے مطابق آندھرا پردیش کے موجودہ 23 اضلاع میں سے دس اضلاع تیلنگانہ کا حصہ ہوں گے۔

حامیوں کی دلیل یہ ہے کہ حکومت نے اس علاقے کو نظر انداز کر رکھا ہے جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد جو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بہت سی دوا ساز کمپنیوں کا گڑھ ہے، وہ تیلنگانہ اور سیماندھرا دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہوگا۔

آندھرا کے کئی اضلاع سے تشدد ، آتش زنی اور مظاہروں کی خبریں موصول ہور رہی ہیں۔ وجے واڑا میں مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات ہوئے ہیں اور حکام کے مطابق وجے نگرم میں سنیچر سے کرفیو لگا ہوا ہے۔

کرفیو کے باوجود وہاں لوگ سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھر پھینکے جن میں کئی پولیس اہلکار سمیت بہت سے مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

حالات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں کانگریس کے کئی بڑے رہنماؤں کے گھر کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، جس میں ریاست کے سربراہ بوتسا ستیہ نارائن کی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔

مظاہرین نے شمالی بھارت کی کئی ریل گاڑیوں کو روک لیا ہے جس کے سبب ان ٹرینوں کے مسافر مشکلات سے دوچار ہیں۔

شمالی بھارت کے مسافروں میں سے زیادہ تر ہندوؤں کے تہوار دسہرہ کی چھٹیوں میں اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں