’استاد‘ لالو کی بےچاراگی

تعلیم صرف چھیالیس روپے روز میں

Image caption ’لالو جب تک جیل میں ہیں قیدیوں اور حکومت دونوں کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں‘

لالو پرساد یادو جب پاکستان گئے تھے تو ان کی خوب پذیرائی ہوئی تھی، آپ کو یاد ہی ہوگا، وہ فی الحال پانچ سال کے لیے جیل میں ہیں اور وہاں بھی ان کی خاطر میں کوئی کسر باقی نہیں ہے، ان کی اپنی پارٹی ریاستی حکومت میں شامل جو ہے!

مگر جیل سے ایک ایسی خبر بھی ہے جس سے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوجانی چاہییں۔

لیکن مستقبل سے پہلے ماضی۔

جیل میں ہوں یا باہر، آپ انہیں پسند کریں یا نہیں، اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ ایک حیرت انگیز اور کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ لالو ایک انتہائی غریب خاندان میں پیدا ہوئے، سوشلزم کا دامن پکڑ کر سیاست میں قدم جمائے، خود اپنی طاقت پر بہار کے وزیر اعلیٰ بنے، اس دوران نو بچے بھی پیدا کیے، پھر اپنی بیوی رابڑی دیوی کو وزیر اعلیٰ بنایا (حالانکہ ان کی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی)، پھر چارا گھوٹالے میں گھر گئے اور جانوروں کو انسانوں پر فوقیت دینے لگے، جیل گئے، باہر آئے اور اس سب کے باوجود ریلوے کے وفاقی وزیر بنائے گئے۔۔۔ لیکن ان کی زندگی کے یہ حیرت انگیز کارنامے یہیں ختم نہیں ہوجاتے!

انہوں نے ریلوے کا حلیہ بدلا (حالانکہ ان کے مخالفین ان کے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہیں) اور اسی وجہ سے انہیں ملک کے مشہور ترین انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبہ کو لیکچر دینے کی دعوت دی گئی۔

اور اب اسیری کے دوران وہ جیل میں قیدیوں کو پڑھائیں گے! یہ قیدیوں کے لیے تو بلاشبہ اچھی خبر ہے لیکن حکومت کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ جس دور میں وہ وزیرِ اعلیٰ تھے، سرکاری خزانے سے مویشیوں کی دیکھ بھال اور چارے کے لیے اربوں روپے نکالے گئے۔ بس ذرا مسئلہ یہ تھا کہ چونکہ مویشی تھے ہی نہیں تو نکالنے والوں نے یہ رقم اپنے پاس رکھ لی۔ اور وہ کرتے بھی کیا؟

تو لالو کسی کو بھی کیا سِکھا سکتے ہیں؟ پیسہ نکالنے کے لیے جو بل جمع کرائے گئے تھے، ان سے کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک رسید چار بیل قبائلی علاقوں تک پہنچانے کی ہے۔ سکوٹر پر! اسی طرح ایک مرتبہ چار پانچ بیلوں کو ایک چھوٹی گاڑی میں لے جایا گیا!

جانور بھلے ہی نہ رہے ہوں، ان کے آرام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی! لالو ملک میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں، بس سیکھنا یہ ہوگا کہ ایک سکوٹر پر چار بیل کیسے ’ایڈجسٹ‘ کیے جاتے ہیں! یا دو ہزار مرغیوں پر ایک سال میں پانچ کروڑ روپے کیسے خرچ کیے جائیں!

لالو جب تک جیل میں ہیں قیدیوں اور حکومت دونوں کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں اور وہ بھی صرف چھیالیس روپے روز میں!

مندر یا ٹائلٹ؟

Image caption بی جے پی نے اب تک کا سیاسی سفر رام مندر کے نام پر طے کیا ہے

بحث ذرا پیچیدہ ہے، لیکن بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کا اب کہنا ہے کہ وہ ’دیوالیہ سے پہلے شوچالیہ’ یعنی مندروں سے پہلے بیت الخلا بنانے کے حق میں ہیں۔ یہ تجویز نئی نہیں ہے، سب سے پہلے بہوجن سماجی پارٹی کے بانی کانشی رام نے کہا تھا کہ ایودھیا میں مندر مسجد کا تنازع حل کرنے کے لیے وہاں ایک ’ٹائلٹ کمپلیکس‘ بنا دیا جائے!

انڈیا میں آدھی سے زیادہ آبادی آج بھی ٹائلٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ اس لیے مودی کا آئیڈیا تو اچھا ہے، لیکن ٹائلٹ بنانا سیکولر آئیڈیا ہے، اس میں وہ مزہ کہاں جو مندر بنانے میں ہے؟

یہ نعرہ کانگریس کے وزیر جے رام رمیش نے بھی لگایا تھا، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس نے منٹوں میں ان کی بولتی بند کردی تھی۔ اب پارٹی خود خاموش ہے کیونکہ بظاہر مودی کے خلاف بولنے کی بی جے پی میں کسی کی ہمت نہیں۔

بی جے پی نے اب تک کا سیاسی سفر رام مندر کے نام پر طے کیا ہے۔ اب جب اسے منزل قریب نظر آرہی ہے تو کیا واقعی پارٹی ’گھر گھر میں ٹائلٹ‘ کا نعرہ بلند کرے گی؟ کیا واقعی ترشول لے کر لمبے بالوں والے سادھو یہ نعرہ لگاتے ہوئے سڑکوں پر اتریں گے کہ ٹائلٹ یہیں بنائیں گے!

اگر ایسا ہو تو اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ اور مودی صاحب کو سخت گیر ہندوتوا کے علم بردار ووٹ دیں یا نہ دیں، ان بے چاروں کے ووٹ پکے سمجھیے گا جو ٹرین سے سفر کرتے ہیں!

لازمی ووٹنگ مگر کس کے حق میں؟

Image caption بھارت میں رائے دہندگان کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی نہیں ہے

ہندوستانی سیاست کے کبھی نہ تھکنے والے یاتری لال کرشن اڈوانی کی ایک خوبی کو سلام کرنا ہوگا، وہ کبھی ہار نہیں مانتے۔

نریندر مودی نے ہی وہ شاخ کاٹی ہے جس پر اڈوانی بیٹھے تھے، اس کے باوجود انہوں نے مودی کی اس تجویز کی تائید کی ہے کہ ملک میں رائے دہندگان کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی کر دیا جانا چاہیے۔

اڈوانی صاحب، براہِ کرم تجویز ایک مرتبہ پھر پڑھ لیجیے۔ کہیں نریندر مودی نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ رائے دہندگان کے لیے بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنا لازمی کر دیا جاناچاہیے!

اسی بارے میں