كمبھ میلے میں وسیع پیمانے پر انتظامات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 11:09 GMT 16:09 PST
CLICKABLE

سادھو کیمپ

  • کمبھ میلہ ہندوؤں کی ایک مقدس ترین یاترا یعنی عبادت ہے۔ اس میں سادھوؤں کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ وہ پورے میلے کے دوران مختلف جلوسوں اور تقریبات کی قیادت کرتے ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

  • امیلے میں یاتریوں کے لیے بنائے گئے رنگا رنگ کیمپوں کے اندر مردوں اور عورتوں اور غریب افراد کے لیے اجتماعی کھانا بھی شامل ہوتا ہے۔ (تصویر: اے ایف پی)

  • میلے میں آنے والے بعض شرکا ہندو دیوتاؤں جیسے لباس زیب تن کرتے ہیں جو نہ صرف یاتریوں بلکہ الہ آباد کے شہریوں کا بھی دل بہلاتے ہیں۔ الہ آباد کی آبادی میں میلے کے دوران کروڑوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ (تصویر: رائٹرز)

  • میلے میں سادھو اپنے اپنے انداز میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، مثال کے طور پر کچھ نے عقیدت میں برسوں سے اپنے ناخن نہیں کاٹے اور یہ بڑھتے چلے گئے۔ (تصویر: اے ایف پی)

  • میلے کے موقع پر جنوری اور فروری کے دوران مذہبی جلوس نکلتے رہتے ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

ہنگامی طبی سروسز

  • Hospital

    کمبھ میلے میں کروڑوں عقیدت مندوں کی شرکت کے باعث یہاں میڈیکل سروسز کا وافر اہتمام کیا گیا ہے۔ بڑے مرکزی ہسپتال میں مختلف امراض کے ماہرین ڈاکٹرز تعینات ہیں جن میں بچوں، امراض نسواں، آنکھوں اور دانتوں کے ڈاکٹرز شامل ہیں۔

  • Ambulances

    ایک بڑے ہسپتال کے علاوہ بارہ چھوٹے ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔ جبکہ پانی اور زمین پر چلنے والی ایمبولینسز کا ایک دستہ بھی مدد کے لیے بلکل تیار کھڑا ہے۔ طبی عملہ کسی بھی یاتری کے پانی میں ڈوبنے، جل جانے، کچلے جانے یا ممکنہ بم حملے کی صورت میں کسی بھی بد ترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ساز وسامان کے ساتھ بلکل تیار ہے۔

  • Police officers

    میلے کے دوران تیس ہزار پولیس والے حفاظت کے لیے مامور ہیں، جنہوں نے پولیس سٹیشنوں کےعلاوہ میلے کے مقام پر جگہ جگہ چیک پو سٹیں قائم کر رکھی ہیں۔ پولیش کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ یاتریوں کا ’مسکرا کر‘ خیر مقدم کریں۔۔

راشن کا انتظام

  • ممیلے کے شرکا کو کھانا پکانے اور اسے گرم رکھنے کی ضروت بھی پڑتی ہے۔ رات کے وقت شہر کا درجہ حرارت بعض اوقات زیرو تک گر جاتا ہے۔ محکمۂ جنگلات کی جانب سے یاتریوں کے لیے لکڑی کے خصوصی سٹورز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ایک ڈپو اہلکار کا کہنا ہے کہ اندازوں کے مطابق میلے میں کوئی ڈھائی ہزار ٹن لکڑی استعمال ہو گی۔ (تصویر: اے ایف پی)۔

  • اندازوں کے مطابق میلے کے دوران ہزاروں ٹن گندم، چاول اور آٹا استعمال ہوگا اس لیے میلے کے حکام نے ایک سو پچیس سٹورز بنائے ہیں جہاں سے یاتریوں کو کم قیمت پر آٹا، گھی، شکر، چاول اور ایندھن دستیاب ہوگا۔

  • کھانے کے نرخ اُتنے ہی رکھے گئے ہیں جو ایک غریب یاتری برداشت کر سکتا ہو۔ میلے کے لیے خصوصی طور پر 16500 ٹن گندم کا آٹا، 6000 ٹن شکر، 9600 ٹن چاول کا انتظام متعلقہ محکمے کی جانب سے کیا گیا ہے۔

دریاؤں کے سنگم پر غسل

  • میلہ تو پچپن دن جاری رہے گا تاہم اس میں ہندو عقیدے کے مطابق اشنان کے لیے مخصوص اور مبارک دن فروری کی دس تاریح ہے۔ (تصویر: اے ایف پی)

  • ممیلہ تو پچپن دن جاری رہے گا تاہم اس میں ہندو عقیدے کے مطابق اشنان کے لیے مخصوص اور مبارک دن فروری کی دس تاریح ہے۔ (تصویر: اے ایف پی)

  • ہندو یاتریوں کا عقیدہ ہے کہ پاک پانی میں اشنان کرنے سے ماضی کے گناہ دھل جاتے ہیں اور وہ زندگی اور موت کے چکر سے مکتی یعنی چھٹکارا پانے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز)

بیت الخلا

  • کسی بھی دوسرے بڑے اجتماع کی طرح کمبھ میلے میں بھی صفائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نشست والے 35000 ٹوائلٹس کے ساتھ ساتھ 340 دس دس نشتوں والے ٹائلٹ اور 4000 صرف پیشاب کرنے کے یونٹس ہیں۔

  • میلے میں تمام مقامات پر عورتوں اور مردوں کے بیت الخلا بلکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ان میں صفائی کا عملہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

  • اس موقع پر دریاؤں میں بیشمار افراد نہا رہے ہوں گے اس لیے تمام فضلہ زیر زمین بھیجنے کا انتظام کیا گیا ہے جہاں وہ چند دنوں کے اندر گل جائے گا۔

خیمہ بستی

پچپن روزہ میلے کے دوران یوں تو یاتری آتے جاتے رہیں گے تاہم خیموں کی اس بستی میں کسی ایک وقت میں توقع ہے کہ تیس ملین یعنی تین کروڑ تک افراد رہائش پذیر ہوں گے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔