ڈیٹنگ کے لیے کیا طریقے استعمال کیے گئے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 18:11 GMT 23:11 PST

ہم میں سے کچھ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جن کا اس شخص سے ملاپ ہوجاتا ہے جس کے ساتھ وہ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن کچھ کو اس ملاپ کے لیے کچھ مختلف کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے ملاپ کے لیے کئی دہائیوں میں کس طرح ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔

  • پرنٹ
  • آن لائن
  • ٹی وی
  • موبائل

ڈیٹنگ ٹائم لائن

  • 1695

    ابتدائی ’تنہا دل‘/ لونلی ہارٹس

    لونلی ہارٹس کا پہلا اشتہار 19 جولائی 1695 کو شائع ہوا جس میں ایک ’جنٹلمین‘ کو ایک نوجوان اور اچھی خاتون کی تلاش تھی

  • 1870-75

    ساتھی کی تلاش کے اشتہار

    میٹریمونیل نیوز ایسا پہلا اخبار تھا جو غیر شادی شدہ افراد کے لیے مخصوص تھا۔ اس کے بعد کئی ایسے جرائد سامنے آئے۔ سنہ 1900 تک ایسے 20 جرائد تھے جو ان افراد کے لیے شائع ہوتے تھے جو ساتھی کی تلاش میں تھے

  • 1915

    تنہا سپاہی

    بیسویں صدی میں لونلی ہارٹ اشتہارات کے لیے ایک خاص مارکیٹ سامنے آئی۔ ڈیلی ایکسپریس نے محاذِ جنگ پر موجود ایک تنہا سپاہی کی کہانی شائع کی جسے ایک خاتون قلمی ساتھی کی تلاش تھی اور اس فوجی کو دو دن میں 470 خط ملے۔

  • 1944

    انیس سو چالیس کی دہائی کے شادی دفتر

    انیس سو چالیس کی دہائی کے اس شادی دفتر میں مرد و خواتین کو ایک فارم بھرنے کو دیا جاتا جس میں ان کی ذاتی معلومات اور مثالی شریکِ زندگی کے بارے میں معلومات پوچھی جاتیں۔ اس کے بعد شادی دفتر ان کی پہلی ملاقات کا انتظام کرتا۔

  • 1951

    لونلی ہارٹ کِلرز

    مارتھا بیک اور ریمنڈ فرنینڈز ان بیواؤں کو نشانہ بناتے جو اخبارات میں ساتھیوں کی تلاش کے اشتہارات دیتی تھیں۔ فرنینڈز ان خواتین سے رابطہ کرتا اور پھر ان کی قیمتی اشیاء لوٹ لیتا جبکہ اس ڈرامے میں مارتھا اس کی بہن کا کردار نبھاتی۔ ان پر تین افراد کے قتل کا الزام ثابت ہوا اور انہیں 1951 میں سزائے موت دے دی گئی۔ ان پر ستّر کی دہائی میں ہنی مون کلرز کے نام سے بنائی گئی۔

  • 1959

    کمپیوٹر کی مدد سے ساتھی کی تلاش

    امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبۂ ریاضی کے طلباء نے اپنے فائنل پراجیکٹ کے لیے کمپیوٹر کی مدد سے ایسے انچاس مرد و خواتین کے جوڑے بنائے جنہوں نے کمپیوٹر ڈیٹ میچنگ پارٹی میں سوالنامے پر کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایک شادی ہوئی۔

  • 1965

    ڈیٹنگ گیم

    ڈیٹنگ گیم اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جو دنیا بھر میں ایسے پروگراموں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوا۔ اسے مختلف اشکال میں دنیا کے اٹھارہ ممالک میں پیش کیا گیا۔ آغاز کے 45 برس بعد مارچ 2011 میں اس کی ایک شکل فیس بک اور دیگر سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر سامنے آئی۔

  • 1965

    آپریشن میچ

    1965 میں ہارورڈ کے دو طلباء نے آپریشن میچ شروع کیا جس میں کمپیوٹر پنچ کارڈز کی مدد سے طلباءو طالبات کی ملاقات کروائی جاتی تھی۔ کالج کے طلبہ پانچ ممکنہ ساتھیوں کے ناموں کے لیے تین ڈالر ادا کرتے تھے

  • 1980 کی دہائی

    چیٹ روم میں داخلہ

    بلیٹن بورڈ سسٹم نے آن لائن رابطوں کو ممکن بنایا۔ لوگ دور رہتے ہوئے اور ایک دوسرے کو دیکھے بنا بھی دوسرے لوگوں سے رابطہ کر پائے اور ان کی محبت میں مبتلا بھی ہوئے۔

  • 1985-2003

    برطانیہ کی ’بلائنڈ ڈیٹ‘

    برطانیہ میں اختتامِ ہفتہ پر نشر کیا جانے والا بہت مقبول شو۔ اسّی کی دہائی میں ایک وقت میں اس کے ایک کروڑ اسّی لاکھ ناظرین تھے۔ اس شو میں ایک خاتون پردے کے پیچھے موجود تین افراد سے تین سوال پوچھتی تھی اور جس کے جواب اسے پسند آتے، اس کا انتخاب کرتی۔ اس شو پر 1998 میں ملنے والا ایک جوڑا آج بھی ساتھ ہے۔ اس شو کی میزبان سلا بلیک برطانیہ میں جانی پہچانی شخصیت بن گئی تھیں

  • 1995

    پیار کی آن لائن سپر مارکیٹ

    میچ ڈاٹ کام نے اپنے صارفین کو اپنی پروفائل بنانے اور دیگر صارفین کی پروفائل تک رسائی کی اجازت دی۔ آنے والے برسوں میں کئی ویب سائٹس نے یہ راہ اپنائی جس سے تنہا افراد کو اشتہارات دینے کے مواقع ملے۔ جون 2011 میں اس کے صارفین کی تعداد بیس لاکھ تک پہنچ گئی۔

  • 1998

    ای میل پر محبت

    ’یو ہیو گاٹ میل‘ دو ایسے افراد کے بارے میں بنائی گئی فلم ہے جو کاروباری حریف ہوتے ہوئے بھی ای میل پر گمنام رابطے کی وجہ سے ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کچھ ماہرینِ نفسیات کے مطابق اس فلم سے آن لائن ڈیٹنگ کے بارے میں لوگوں کے شکوک دور ہوئے۔

  • 2000

    سائنسی ساتھی

    ماہرینِ نفسیات کے مطابق آن لائن ڈینٹنگ کی دوسری نسل 2000 میں ای ہارمنی ڈاٹ کام کے آغاز کے ساتھ شروع ہوئی۔ ای ہارمنی سائنسی بنیاد پر ساتھی کی تلاش کا نظام پیش کرنے کی دعویدار ہے۔

  • 2000

    پاغات میں رشتے کی تلاش

    چین میں والدین باغات میں اپنے بچوں کے بارے میں اشتہارات چسپاں کرتے ہیں جن میں ان کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیگر والدین ان اشتہاروں کو پڑھیں اور اگر ان کی اولاد سے مطابقت ہو تو بات آگے بڑھ سکے۔

  • 2001

    دل ربا جزیرہ/ ٹیمپٹیشن آئی لینڈ

    ٹیمپٹیشن آئی لینڈ امریکی ٹی وی کا ایک ریئلیٹی شو ہے جس میں جوڑے ایک جنت نظیر جزیرے پر رہتے ہیں جہاں ان کے تعلق کی پائیداری جانچی جاتی ہے۔ یہ شو دنیا کے سترہ ممالک میں دکھایا جاتا ہے

  • 2003

    آن لائن ڈیٹنگ ایک بڑا کاروبار ہے

    جیایوان ڈاٹ کام کا آغاز 2003 میں ہوا اور اب یہ چین کی سب سے بڑی آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ ہے۔ کام سکور کے مطابق ہر ماہ اس پر نوے لاکھ مخصوص صارف آتے ہیں

  • 2006

    ابھی ملنا چاہتے ہو؟

    بیڈو ایسے افراد کے لیے بنائی گئی ایپ ہے جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے لیکن سمارٹ فونز ایپس کی مدد سے ربط رکھنا چاپتے ہیں۔ اس سروس کے مطابق اب ان کے پاس 180 ممالک میں سترہ کروڑ رجسٹرڈ صارف ہیں۔

  • 2009

    گرائنڈنگ

    دو ہزار نو میں ہم جنس پرست افراد کے لیے ایپ (Grindr)گرائنڈر ریلیز کی گئی۔ یہ ایپلیکیشن ایک مخصوص علاقے میں موجود ہم جنس پرست افراد کو ملنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ 2012 میں گرائنڈر نے بتایا کہ دنیا کے 192 ممالک میں اس کے چالیس لاکھ صارف ہیں جن میں سے گیارہ لاکھ روزانہ آن لائن ہوتے ہیں

  • 2010

    اگر آپ ہی وہ ہیں

    چین کا مقبول ترین ڈیٹنگ گیم شو فی چنگ وو راؤ جنوری 2010 میں شروع ہوا۔ اس میں ایک شخص چوبیس خواتین سے خود کو متعارف کرواتا ہے۔ اگر تمام خواتین اس میں دلچسپی ظاہر نہ کریں تو وہ شخص ہار جاتا ہے۔ یہ پروگرام آسٹریلوی شو ٹیکن آؤٹ اور برطانوی شو ٹیک می آؤٹ سے ماخوذ ہے۔

  • 2012

    کروڑ پتی امریکی کا اشتہاری بورڈ

    کیلیفورنیا کے لکھ پتی مارک پیسکن کی کرسمس کی خواہش تھی کہ ان کو لاطینی لڑکی ملے۔ وہ لونلی ہارٹس کو ایک قدم آگے لے گئے جب انہوں نے سین ڈیاگو موٹر وے پر ایک بڑے بورڈ پر اشتہار لگایا۔ ان کو پندرہ ہزار جواب آئے۔

  • 2013

    آن لائن ڈیٹنگ کا فروغ

    آج دنیا میں آن لائن ڈیٹنگ کے لیے 1000 سے زائد ویب سائٹس مخصوص ہیں۔ انشااللہ ڈاٹ کام مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی دوسری مقبول ترین اور شادی ڈاٹ کام بھارت کی سب سے مقبول ویب سائٹ ہے۔ انٹرنیٹ انٹیلیجنس کمپنی کام سکور کے مطابق پلنٹی آف فش برطانیہ اور اویسس ڈیٹنگ نیٹ ورک لاطینی امریکہ میں مقبول ترین ہیں۔ دنیا میں دس فیصد انٹرنیٹ صارفین آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں۔

دو ہزار تیرہ کے بعد

  • ایلی فنکل

    نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر

    ’آن لائن کمپنیاں اب سٹر نامی مجالس کا اہتمام کر رہی ہیں جس میں لوگ آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں کسی بھی کمپیوٹر پروگرام سے بہتر ہیں۔‘

  • ڈان سیپرڈ پی ایچ ڈی

    بوئس سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں اسسٹنٹ پروفیسر

    ’جب تک لوگ ڈیٹ پر جاتے ہیں تمام نظام کام کرتا ہے۔ یہ بالکل ویسے ہے جیسے کہ آن لائن شاپنگ۔ آن لائن پر ممکنہ لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ ڈیٹنگ کو تبدیل کردیا گیا ہے۔‘

  • ڈاکٹر اینڈرس سینڈبرگ

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفے سے منسلک

    ’پچاس سال میں لڑکے اور لڑکیوں کا ملاپ جدید سوشل میڈیا پر انحصار کرے گا۔ اس لیے اپارٹمنٹ کی چابی کے بجائے نیٹ ورک کی چابی ہو گی۔‘


BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔