نغمۂ صحرا خاموش ہوگیا

Image caption جھونپڑی سے اُٹھنے والے صحرائی نغمے کی گونج موسیقی کے ایوانوں تک پہنچی تو عمائدینِ فن حیرت زدہ رہ گئے

کہنے کو تو ریشماں کی آواز اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہے اور کوئی نیا گیت اب ان لبوں سے اُبھر کر ہوا کی لہروں میں ہل چل پیدا نہیں کرے گا۔ لیکن جو نغمات برقی فیتے میں قید ہو کر ڈیٹا کی شکل اختیار کر چُکے ہیں وہ تا قیامت ہمارے ساتھ رہیں گے۔

ریشماں نے جس خانہ بدوش ماحول میں جنم لیا وہاں پیدائش اور موت کے اندراج کا نظام موجود نہیں تھا لیکن محققین نے ایک محتاط اندازے کے مطابق ریشماں کی تاریخِ پیدائش مئی 1947 مقرر کی ہے۔ اس لحاظ سے وفات کے وقت اُن کی عمر چھیاسٹھ برس سے کچھ اوپر تھی۔

نگری نگری گھوم کر گڑوی بجانے والی ریشماں کو عوام سے متعارف کرانے کا سہرا اسی شخص کے سر بندھتا ہے جس نے مہدی حسن جیسے نابغۂ روزگار گائیک کو متعارف کرایا تھا یعنی معروف براڈ کاسٹر سلیم گیلانی جو ریڈیو پاکستان میں موسیقی کے پروگرام پروڈیوسر تھے اور بعد میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔

سلیم گیلانی نے گڑوی بجانے والی اُس خانہ بدوش لڑکی کی آواز کراچی کی ایک گلی میں اتفاقاً سنی تھی۔ جب ریڈیو سٹیشن لا کر اس کی آواز ریکارڈ کی گئی تو نستعلیق قسم کے اہلِ زبان نے اس کے تلفظ پر ناک بھوں چڑھائی اور درباری سرکاری موسیقاروں نے اسے ایک بھدّی اور ان گھڑ آواز قرار دیا۔

Image caption ریشماں کا بیٹا ساون بھادوں جو اپنی والدہ کے فن کو اگلی نسل تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے

لڑکی تو آڈیشن دے کر چلی گئی لیکن جب اس کی ریکارڈنگ موسیقی کے اصل پارکھوں تک پہنچی تو ہر طرف سے واہ واہ کے نعرے گونجنے لگے۔

اب اس گم شدہ ہیرے کی تلاش شروع ہوئی۔ خانہ بدوشوں کے ہر ڈیرے پر اس کی ڈھنڈیا پٹی لیکن اس گوہرِ نایاب کا کہیں پتہ نہ چلا۔

ڈیڑھ برس بعد سیہون شریف کے میلے پر سلیم گیلانی کو وہ لڑکی ایک بار پھر گڑوی بجاتی ہوئی نظر آگئی، لیکن اس بار انھوں نے اس ذرِ نایاب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ساتھ لیکر سیدھے کراچی کے ریڈیو سٹیشن پہنچے۔

اب ریشماں کے لائیو پروگرام نشر ہونے لگے اور ریکارڈ شدہ گانے بھی گلی گلی سنُے جانے لگے۔ اس کی آواز میں صحرا کی وسعت تھی، جنگل کا درد تھا، دریا کی روانی تھی اور قدیم معبدوں کی گونج تھی۔

جلد ہی اس آواز کی شہرت ملک کی حدوں سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی اور بی بی سی ٹیلی ویژن کی مشرقی سروس نے انھیں خاص طور پر برطانیہ بلوا کر اُن کا انٹرویو نشر کیا۔ اس کے بعد ریشماں نے ہر اُس ملک کا دورہ کیا جہاں برِصغیر کے لوگ آباد تھے۔

موت سے قبل انھوں نے اس بات کا فخریہ اظہار کیا کہ وہ اپنا فن ساتھ لیکر قبر میں نہیں جائیں گی بلکہ اپنے بیٹے ساون بھادوں کے ذریعے وہ گائیکی کے اس انداز کو شائقین کی اگلی نسل تک بھی پہنچائیں گی۔

اسی بارے میں