’کوئی خبر کسی کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں‘

Image caption چھ بجے کے بلیٹن کے لیے رپورٹر کا لائیو بیپر کروانے کے لیے تھوڑا فاصلے پر جا کھڑے ہوئے تو دھماکہ ہوگیا: امتیاز خان

پاکستان میں پرتشدد واقعات بدستور جاری ہیں اور ان واقعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے خطرات میں بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ دھماکوں کے علاوہ اب تو شدت پسندوں نے میڈیا کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا بلکہ کراچی میں تو اس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

لاہور کے مال روڈ پر سوموار کو ہوئے دھماکے میں صحافی خوش قسمتی سے بچ گئے۔ جو کوریج کے لیے وہاں تو موجود تھے لیکن شام چھ بجے کا بلیٹن ان کی زندگیاں بچا گیا۔

کیمسٹوں کے جس مظاہرے میں خودکش بمبار نے سینیئر پولیس افسران کو نشانہ بنایا اسی مظاہرے کی کوریج ملک کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے چینل کے سینیئر کیمرا مین امتیاز خان بھی کر رہے تھے۔ وہ سکرین کا پیٹ بھرنے کے لیے انہیں افسروں کے آس پاس موجود تھے جو چند لمحوں بعد دھماکے کا نشانہ بنے۔

بی بی سی اردو کے فرقان الہٰی سے گفتگو کرتے ہوئے امتیاز خان نے بتایا کہ وہ دھماکے سے کچھ منٹ قبل وہیں موجود تھے، چھ بجے کے بلیٹن کیلئے رپورٹر کا لائیو بیپر کروانے کے لیے تھوڑا فاصلے پر جا کھڑے ہوئے تو دھماکہ ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے تو بلیٹن کے لیے لائیو بیپر بچا گیا ورنہ۔۔۔۔۔۔‘

امتیاز خان کے کان کے پردے پہلے ہی ایک بم دھماکے میں متاثر ہو چکے ہیں۔ ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصے سے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ امتیاز خان پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے پہلے پہلے کیمرا مینوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے لاہور میں ہونے والے دہشتگری کے تمام واقعات اور بم دھماکوں کی کوریج کی ہے۔ کہتے ہیں جب سے کان متاثر ہوا تب سے پاس سے گزرنے والی گاڑی کے ہارن سے بھی ڈر لگتا ہے۔ ہارن کی صدا اب دھماکہ لگتی ہے۔

امتیاز کے لیے دھماکوں کی کوریج کرنا اور ہر حال میں کرنا اب ایک معمول بن گیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مال روڈ پر دھماکے کے بعد کچھ لمحوں کے لیے ان کے حواس خطا ہوئے، لیکن پھر جیسے ہی ہوش بحال ہوا تو انھوں نے ہر طرف پھیلے انسانی اعضا، خون اور گاڑیوں کو لگی آگ کو فلمانا شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ہمارے کام کا تقاضہ یہی ہے کہ اچھی سے اچھی فوٹیج بنا کر بھیجیں۔ اس وقت سوچنے کی فرصت بھی نہیں ہوتی لیکن اب اکثر یہ سوچتا ہوں کہ سڑک پر بکھرے پڑے انسانی جسموں کے اعضا، خون میں لت پت لاشیں، چیختے زخمی، آگ اور دھوئیں کی اچھی منظرنگاری کیسے ہو سکتی ہے؟ بے حس ہوگیا ہوں شاید۔‘

یہی الجہن کبھی کبھار پیشہ چھوڑنے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے لیکن پھر یہی سوچ کر دوبارہ اپنے کام میں جت جاتا ہوں کہ جو کام زندگی بھر کیا وہ اب چھوڑ دیا تو پھر گھر چولہا کیسے جلے گا، بچے کیسے پلیں گے؟

اچھی فوٹیج کی خواہش کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے کئی علاقوں میں کیمرا مینوں، رپورٹروں اور فوٹوگرافوں کو نگل گئی ہے۔ میڈیا مالکان سے جب تک صحافیوں کے کسی بھی نقصان پر تنظیمیں اور حکومت جواب طلبی نہیں کرتیں کیمرا مین اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے رہیں گے۔ اس وقت تک اچھی فوٹیج کی طلب ان صحافیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے گی۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار محمد ضیا الدین اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ میڈیا مالکان کی ترجیح خبر تو ہوتی ہے لیکن صحافی کی زندگی کا تحفظ ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ملک میں 35 سال میں دو صورتحال نظر آئیں ایک 1980 کی دہائی اور پھر دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ لیکن دونوں مواقع آنے کے بعد میڈیا کی کوریج کے حوالے سے کوئی قاعدہ نہیں بنایا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ کوریج کرتے وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس میں رسک یعنی صحافی کی زندگی کو خطرہ کتنا ہے۔

’کوئی خبر کسی کی زندگی سے زیادہ اہم نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایڈیٹر کا کام ہے کہ وہ جب رپورٹر یا کیمرا مین کو کوریج پر بھیجے تو بتائے کیسے کرنی ہے۔‘