بے وقوف کمپیوٹر!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

باقی دنیا نے تو روزمرہ زندگی سہل، شفاف اور باقاعدہ و بااعتبار کرنے کے لیے اپنے اداروں اور انتظام و انصرام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس کے پھل سمیٹنے شروع کردیے ہیں لیکن پاکستان میں کمپیوٹرائزیشن نے زندگی جتنی آسان کی ہے اتنی ہی مشکل بھی بنا دی ہے۔

کیونکہ کمپیوٹر کو یہ تمیز تو ہے کہ مواد اور اعداد و شمار سے کس طرح ترتیب وار کھیلنا ہے لیکن اب تک کوئی ایسا کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا جو بدنیتی و جہالت سے پر مواد کو خالص و ایماندارانہ ڈیٹا سے الگ کر کے مرتب کر سکے۔

مثلاً جب پرویز مشرف دور میں نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) تشکیل دی گئی تو بتایا گیا کہ اب اغلاط و جعلسازی سے پاک شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور ووٹرز لسٹیں تیار ہوں گی اور کوئی فراڈ یا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا اور دستاویزات کو جل نہیں دے سکے گا۔گو کسی حد تک ایسا ہوا بھی، لیکن جعلسازوں نے بھی اپنے طور طریقے جدیدیا لیے۔ اگر پہلے کوئی افغان ، برمی بنگلہ دیشی یا عرب باشندہ غیر مشینی شناختی کارڈ پانچ ہزار روپے اور ہاتھ سے لکھا پاکستانی پاسپورٹ پچیس ہزار میں بنوا لیتا تھا تو آج اسے یہی سودا بیس ہزار سے ایک لاکھ روپے میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ و پاسپورٹ کی صورت میں مل جاتا ہے۔

ریلوے کی ٹکٹنگ کا نظام بھی بڑے شہروں کی حد تک کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر یار لوگوں نے اس نظام کو جل دینے کے طریقے بھی نکال لیے۔ محمد رمضان کے نام پر کمپیوٹرائزڈ بکنگ سلپ بنتی ہے اور کسی ضرورت مند محمد اسلم کو یہ سلپ فروخت کرکے بطور محمد رمضان سفر کروا دیا جاتا ہے یا اگر اصلی محمد اسلم کسی سبب اپنا ٹکٹ استعمال نا کرسکا تو اس کی جگہ کسی غلام حسین کو کراچی سے لاہور کے ڈبے میں بٹھا دیا جاتا ہے اور گیارہ سو کلومیٹر کا پورا کرایہ جیب میں ڈال کر میاں چنوں سے لاہور کی سو کلو میٹر کی ٹکٹ بنا دی جاتی ہے ۔غلام حسین بھی خوش اور ٹکٹ ایگزامنر بھی خوش اور قومی خزانہ ناخوش ۔

پھر جعلی ڈرائیونگ لائسنسوں کے خاتمے کے لیے کمپیوٹرائزڈ لائسنس جاری ہونے شروع ہوئے۔ بس اتنا ہوا کہ پہلے جو لرننگ لائسنس ہاتھ سے بنتا تھا اب کمپیوٹر سے بنتا ہے اور اس کے فوراً بعد باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس بھی کمپیوٹرائزڈ بنا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ڈرائیونگ ٹیسٹ لینا نا لینا آج بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کمپیوٹر تو صرف ایک تابعدار منشی ہے۔

لیکن سب سے بڑا کمپیوٹر گیم تعلیم کے شعبے میں ہورہا ہے۔ پہلے طالبِ علم کے نمبر ہاتھ سے تبدیل ہوتے تھے اب کی بورڈ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ پہلے امتحانی پرچوں کی جانچ اساتذہ خود کرتے تھے اب کمپیوٹر کو ٹھیکے پر دے دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

مثلاً اس سال صوبہ پنجاب میں انٹرمیڈیٹ سالِ اوّل کے جو کمپیوٹرائزڈ امتحانی نتائج سامنے آئے ان پر کمپیوٹر ٹیکنولوجی بھی ششدر ہے۔ جس مضمون میں پریکٹیکل نہیں ہوتا اس مضمون میں کمپیوٹر نے پریکٹیکل نمبر دے دیے۔ اکنامکس کا پرچہ دینے والے بچے کو بیالوجی میں کامیاب دکھا دیا گیا اور بیالوجی والے نے فلاسفی میں اے گریڈ لے لیا۔ جس نے انگریزی کا پرچہ دیا اسے صفر ملا اور جس نے انگریزی کا پرچہ نہیں دیا اسے انگریزی میں بیالیس نمبر مل گئے۔

ظاہر ہے طلبا نے مشتعل ہوکر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ چنانچہ پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صوبے کے تمام انٹرمیڈیٹ بورڈز کے کمپیوٹرائزڈ نتائج منسوخ کر کے نئے سرے سے نتائج مرتب کرنے کا اعلان کرنا پڑا اور انٹرمیڈیٹ سالِ اول کے تمام طلبا کو تالیفِ قلب کے لیے اگلے درجے میں ترقی دینے کا فیصلہ بھی زیرِ غور ہے۔

کیا اس دنیا کا کوئی سٹیو جابز ایسا کمپیوٹر یا کوئی بل گیٹس ایسی ونڈو متعارف کروا سکتا ہے جو غلط ڈیٹا کی انٹری اور بدنیت پروگرامر کا ہاتھ پہچان سکے اور ذہن پڑھ سکے۔

جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان اور پاکستان جیسے درجنوں ممالک کمپیوٹر ایج میں تو داخل ہو سکتے ہیں لیکن کمپیوٹرائزڈ ایج میں نہیں۔۔۔

اسی بارے میں