عمران خان ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت؟

تصویر کے کاپی رائٹ

تحریک انصاف نے مسلم لیگ کے مقابلے میں تین گنا سے بھی بڑا جلسہ کر کے ان سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا جو ابھی تک یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ عمران خان ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت ہیں۔

اور سچ تو یہ بھی ہے کہ عمران کے چہرے پرجو مسکراہٹ تھی وہ اس بات کی عکاسی کر رہی تھی کہ شاید خود انہیں بھی اتنی بڑی کامیابی کی امید نہیں تھی۔

عمران خان کو ان کے حامیوں نے تو لاہور جلسے کوسرشار کر ہی دیا تھا۔ ان کے مخالفین بھی انہیں کامیاب جلسہ کرنے پر مبارکباد دینے پر مجبور ہوگئے۔

صرف دو روز کے وقفے سے ہونے والے مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے جلسوں کے شرکاء میں بہت تفریق نظر آئی۔

عمران خان کے جلسے میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا تناسب حیرت انگیز طور پر زیادہ تھا اور ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد اپنی وضع قطع اور لباس سے اپر مڈل کلاس کے لگ رہے تھے۔

عام شہریوں کی بڑی تعداد اپنی سواریوں پر یا پیدل جلسے میں خود سے پہنچے تھے اور ان کا جوش وخروش دیدنی تھا۔نظر آرہا تھا کہ لوگ خود سے پوسٹر اور بینر بنا کر لائے تھے۔

اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کا جلسہ روایتی تھا زیادہ تعداد مڈل ایج لوگوں کی تھی اور پنجاب حکومت نے جلسہ کامیاب کرانے کے لیے اپنا سا زور بھی لگایا تھا۔

اٹھائیس اکتوبر کو مسلم لیگ نون کے جلسے کے موقع پر جناح باغ میں کوئی تین سو کے قریب سرکاری ملازم ملے جن میں مسلم لیگ نون کے جھنڈے تقسیم کیے جارہے تھے۔یہ تمام پارکس اینڈ ہارٹی کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین تھے اور چند ایک نے آن دی ریکارڈ یہ بتایا تھا کہ انہیں زبردستی مسلم لیگ نون کے جلسے میں بھیجا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تحریک انصاف اپوزیشن کی جماعت ہے اور اس پر اگرچہ سرکاری حمایت کا الزام نہیں لگایا جا سکتا لیکن مسلم لیگ نون کے حامی یہ بھونڈا الزام لگانے سے نہیں چوکتے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف تحریک انصاف کی درپردہ پشت پناہی کر رہے ہیں تاکہ نواز شریف کے ووٹ بنک پر کاری ضرب لگائی جا سکے۔

تحریک انصاف کے اتوار کے جلسے نے یہ تو ثابت کردیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ نون کے ووٹ بنک پر ضرب تو کاری ہی لگے گی لیکن کیا پیپلز پارٹی بچ پائے گی؟ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور جیسے شہر میں جلسے کی کامیابی کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں اور یہ کامیابی دیکھ کر ان سیاسی شخصیات تحریک انصاف میں شمولیت زور پکڑ سکتی ہے جو اپنے انتخابی حلقوں میں جیتنے یا کم از کم مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

یہ امیدوار پر سیاسی جماعت کی ضرورت ہوتے ہیں اور یہی امیدوار یہ ہوا بھی بناتے ہیں کہ کون سی جماعت آئندہ الیکشن جیتنے والی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فی الحال تحریک انصاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مقابلے میں بہت چھوٹی جماعت دکھائی دیتی ہے لیکن لاہور کے جلسے کی اٹھان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ انتخابات آتے آتے بساط الٹ بھی سکتی ہے۔

کسی ایسی جانب کی ہوا بھی چل سکتی ہے جو بال کو ایسی ریورس سوئنگ دے جو کسی کی سمجھ میں نہ آ سکے۔

امریکی صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔یہی نعرہ اب عمران خان لگا رہے ہیں لیکن امریکہ اور پاکستان کی انتخابی سیاست میں بہت فرق ہے۔

پاکستان میں لوگ تبدیلی تو چاہتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی کے لیے تحریک انصاف جیسی نئی سیاسی قوت کا انتخاب کیا جاتا ہے یا پھر روایتی سیاستدان نئے نعروں کے ساتھ اقتدار میں پہنچیں گے۔

مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے سیاسی جلسوں نے پاکستان کے سیاست میں گرم جوشی کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

اسی بارے میں