یہ کون دیکھےگا؟

افتخار چودھری تصویر کے کاپی رائٹ Other

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم مسلح افواج و سول سروس کے افسروں سے ملاقات کے دوران ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ آئین میں درج طریقِ کار کے برعکس حکومت پر قابض ہونے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے زمرے میں آتی ہے اور کوئی عدالت اسے قانونی جواز فراہم نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی ہدایات کے بغیر مسلح افواج کا کوئی بھی اقدام غیر آئینی و غیر قانونی تصور ہوگا اور اسے کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔

حالانکہ سپریم کورٹ اکتیس جولائی دو ہزار نو کے اپنے فیصلے میں ان نکات کی خاصی حد تک وضاحت کرچکی ہے اس کے باوجود سپریم کورٹ کے دو سال چار ماہ قبل کے فیصلے کے بعد سے اب تک غالباً کچھ ایسا ضرور ہورہا ہے کہ چیف جسٹس کو ایک بار پھر آئینی و غیر آئینی حکومت اور اقدامات کے فرق کو واضح کرنا پڑا۔

شاید اب بھی بعض اہم سوالات سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی کے فیصلے اور تازہ یاد دہانی کی روشنی میں جواب طلب ہیں۔

مثلاً بلوچستان میں لوگوں کے غائب ہونے اور لاشیں ملنے کی زمہ داری آیا وفاقی حکومت اور ماتحت عسکری اداروں پر عائد ہوتی ہے یا صوبائی حکومت پر۔

سوات میں فوجی آپریشن کے بعد سے آج تک جن سینکڑوں نجی املاک کو عسکری اداروں نے اپنی تحویل اور استعمال میں لے رکھا ہے وہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر ہوا ہے یا کسی نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ آیا جن مالکان کی املاک قبضے میں لی گئیں ان سے باقاعدہ باہمی رضامندی سے دستاویزی معاہدہ کیا گیا یا سب کچھ زبانی کلامی طے ہوا یا کرلیا گیا؟

کیا دفاعی و تربیتی مقاصد کے لئے دی گئی سرکاری زمین کا کمرشل استعمال وفاقی حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے یا ازخود کیا جا رہا ہے اور کیا کوئی عسکری و غیر عسکری ادارہ اپنے واضح قانونی و پیشہ ورانہ دائرہ کار سے ماورا صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اپنے ہی کمرشل ذیلی اداروں کے ذریعے شامل ہوسکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا ایسا وفاقی حکومت کی اجازت سے ہو رہا ہے ؟

کیا کسی عسکری و غیر عسکری ادارے کو ملک کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں اور صورتحال پر اپنی رائے براہ راست دینے کا حق ہے یا اپنی ادارتی رائے وفاقی حکومت تک پہنچانے کے لئے طے شدہ سرکاری چینل کافی ہیں ؟ اگر اس کے برعکس ہورہا ہے تو کیا وفاقی حکومت کی اجازت سے ہو رہا ہے ؟

جس طرح قوم کو وفاقی بجٹ کی ہر مد جاننے کا حق ہے اور جس طرح ہر بجٹ کی تفصیلی کتاب عام ملاحظے کے لئے شائع کی جاتی ہے ۔کیا قوم کو یہ حق ہے کہ وہ اندرونی و بیرونی قرضوں پر دیے جانے والے سود اور دفاعی بجٹ کی ترقیاتی و غیر ترقیاتی مدوں اور دفاعی بجٹ کے بعض اخراجات کو بلاواسطہ انداز سے سویلین بجٹ میں شامل کرنے کی تفصیل جان سکے۔ تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ سود کی ادائیگی اور دفاعی بجٹ کے بعد اصل میں عوام کی ترقی کے لئے کیا بچتا ہے یا نہیں بچتا۔

جہاں تک کسی ادارے کی جانب سے آئینی اختیارات غیر آئینی طریقے سے غصب کرنے کی بات ہے تو ریموٹ کنٹرول کی ایجاد کے بعد سے یہ فارمولا فرسودہ اور پرانا ہوچکا ہے۔ لہذا عدالتِ عظمی کو اب اپنی توجہ آئینی طریقے سے غیر آئینی حکومت کرنے کے جدید طریقوں کی چھان بین پر مرتکز کرنا چاہیے !

اسی بارے میں