کیا خبر ہے اور کیا بے خبری ؟

واقعہ یہ ہے کہ چالیس فیصد پاکستان (بلوچستان) گزشتہ چھ برس سے حالتِ خانہ جنگی میں مبتلا ہے۔ ’ڈیتھ سکواڈز‘ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور مار کر بیابان میں پھینک دیتے ہیں۔

لیکن بحث یہ ہو رہی ہے کہ وینا ملک نے ٹاپ لیس میں فوٹو سیشن کروایا تھا یا نیوڈ فوٹو سیشن ہوا تھا۔ یا یہ اوریجنل فوٹو سیشن تھا یا کمپیوٹرائزڈ عریانی ہے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ پنجاب کے علاقے وہاڑی میں ایک مسافر ویگن کا سی این جی سلنڈر پھٹنے سے پچیس اور ایک اور حادثے میں گیس سلنڈر پھٹنے سے پندرہ مسافر ہلاک ہوگئے۔

لیکن بحث یہ ہے کہ نیٹو کے حملے میں چھبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت جیسے واقعات کو کیسے روکا جائے۔

واقعہ یہ ہے کہ فیصل آباد میں ایک رکشہ ڈرائیور نے ناجائز چالان پر ٹریفک وارڈن کے سامنے خودکشی کرلی۔

لیکن بحث اس بات پر ہورہی ہے کہ صدر آصف زرداری کی بیماری جسمانی ہے کہ ذہنی۔

واقعہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے طور پر اسلام آباد میں پارٹی اجلاسوں کی صدارت کررہے ہیں اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔

مگر گفتگو یہ ہے کہ بلاول نے سندھی ٹوپی کیوں پہن رکھی ہے اور وہ اس کے ذریعے فیڈریشن کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ساٹھ فیصد پاکستانی سکولوں میں بیت الخلاء کی سہولت نہیں ہے۔ پچاس ہزار پاکستانی ہر سال ملیریا کے مچھر سے اور ایک لاکھ آلودگی سے پھیلنے والی بیماریوں سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

مگر بحث یہ ہے کہ عمران خان کو کراچی میں پچیس دسمبر کو جلسہ کرنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال چھ کھرب روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری ہورہا ہے۔

لیکن بحث یہ ہے کہ اداکارہ عتیقہ اوڈھو اسلام آباد ایئرپورٹ پر شراب کی دو بوتلیں برآمد ہونے کے مقدمے سے بری ہوجائیں گی یا جیل جائیں گی۔

واقعہ یہ ہے کہ ایرانی کوسٹ گارڈز نے گزشتہ ہفتے جن تین پاکستانی مچھیروں کو ہلاک کردیا ان کی لاشیں اب تک پاکستان نہیں لائی جاسکیں۔

لیکن بحث یہ ہے کہ اس سال عرب شیوخ کو تلور کے شکار کے لیے جو پرمٹ جاری کیے گئے ان سے پاکستان کو کتنی نفلوں کا ثواب ملے گا۔

واقعہ یہ ہے کہ میمو گیٹ کا اہم کردار منصور اعجاز ایک متنازع شخصیت ہے جسے خبروں میں رہنے کا چسکا ہے۔

لیکن بحث یہ ہورہی ہے کہ منصور اعجاز قادیانی ہے کہ نہیں ۔

ایسا کیوں ہے کہ جن واقعات کو بشکلِ خبر میڈیا کی شہہ سرخی ہونا چاہیے ان پر چادر ڈال دی جاتی ہے اور جن خبروں پر چادر ڈالنی چاہیے انہیں میڈیا کے کھلے تابوت میں مخصوص ایجنڈے اور مفادات کے بانس باندھ کر گلی گلی گھمایا جاتا ہے۔

پھر مجھے یہ سوچ کر سکون سا مل جاتا ہے کہ جب ہم بغیر بالائی کے سفیدے کو دودھ اور بغیر مکھن والے پانی کو لسی سمجھ سکتے ہیں تو پھر خبر کے نام پر بےخبری ہضم کرنا بھلا کیا مشکل ہے۔

اسی بارے میں